خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 561

خطابات شوری جلد اول نادہندوں کی طرف توجہ نہیں کرتی ۔ ۵۶۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء د ایک سب کمیٹی کا تقرر اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ایک کی جاتی ہے۔ سب کمیٹی اگلے مالی سال کے لئے ان دوستوں پر مشتمل مقرر ا ۔ چودھری ظفر اللہ خان صاحب ۲۔ چودھری نعمت خان صاحب ۳۔ پیرا کبر علی صاحب ۴ - خانصاحب منشی فرزند علی صاحب ۵۔ میر محمد اسمعیل صاحب ۶ ۔ راجہ علی محمد صاحب ۷۔ عبدالحمید صاحب شملوی - میر محمد اسحاق صاحب ۹ ۔ میاں بشیر احمد صاحب ۱۰۔ ناظر بیت المال ۱۱ ۔ چودھری نورالدین صاحب منٹگمری ۱۲- حاجی غلام احمد صاحب ۱۳ ۔ چودھری غلام حسین صاحب ۱۴۔ مولوی محمد عبداللہ صاحب بوتالوی ۱۵- محاسب صاحب ۱۶ ۔ بابو قاسم دین صاحب یہ ۱۶ اصحاب ہیں جن میں 11 بیرونی جماعتوں میں سے اور پانچ مرکز کے ہیں۔ یہ سب کمیٹی سال میں کئی دفعہ اجلاس کرے جن میں میں خود بھی شامل ہوں گا۔ کمیٹی مجھ سے مشورہ لے کر تجویز کرے کہ اخراجات میں سے کون سی رقوم کائی جا سکتی ہیں اور آمدنی بڑھانے کے کیا ذرائع ہیں۔ ان ممبروں کو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی حد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے لئے حاضری ضروری ہے۔ وہ اجلاس میں شمولیت کے لئے انتہائی کوشش کریں اور استعفے پیش کر دینے سے نیچے نیچے ہر کوشش جو دیانت داری سے کر سکتے ہوں کریں ورنہ ان سے جواب طلب کیا جائے گا۔ پہلا اجلاس محرم کی چھٹیوں میں منعقد ہوگا ۔ ہر شخص جو ممبر مقرر کیا گیا ہے اُسے شامل ہونا چاہئے ۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنی ملازمت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے قانونی یا اخلاقی مجرم بنتا ہو یا ملازمت سے استعفیٰ دینا پڑتا ہو ۔ اس اجلاس میں خرچ میں جائز کمی کرنے اور آمدنی کے بڑھانے پر غور کیا جائے گا اس کے بعد جو بجٹ تجویز ہو گا وہ جماعتوں پر ڈالا جائے گا اور جو جماعت اپنا بجٹ پورا نہ کرے گی