خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 475
خطابات شوری جلد اول ۴۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء منعقده ۲۵ تا ۲۷ / مارچ ۱۹۳۲ء ) پہلا دن اء مجلس مشاورت منعقده ۲۵ تا ۲۷ مارچ ۱۹۳۲ء کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے دُعا سے متعلق فرمایا :- دعا - دو پیشتر اس کے کہ ہم مجلس شوری کی کارروائی شروع کریں، میں چاہتا ہوں کہ سب دوست مل کر میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دُعا کر لیں کہ وہ ہمارے اس اجتماع میں برکت ڈالے اور ان امور کے متعلق جن پر غور کرنے کے لئے ہم جمع ہوئے ہیں ہماری رہنمائی فرمائے اور بہترین رہنمائی فرمائے تا کہ جو نہ کرنے کی باتیں ہیں وہ ہم کر نہ بیٹھیں اور وہ باتیں جو کرنے کی ہیں وہ ترک نہ کر دیں۔ انسانی علم خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو محدود علم ہے اور انسانی تدبیریں خواہ کتنے ہی غور و خوض کے بعد اختیار کی جائیں نہایت کمزور ہوتی ہیں اس لئے باوجود پوری دیانت داری کے ساتھ مشورہ کرنے کے اور باوجود ہر قسم کی شرارت اور کینه توزی کے خیالات کو دل سے دُور کر دینے کے اور باوجود بہتر سے بہتر تجویز ویز طے کرنے کے بالکل ممکن ہے کہ ہم اپنے مشوروں میں غلطی کر جائیں، ان نتائج کو اپنے لئے مفید سمجھ لیں جو دراصل مضر ہوں اور ان نتائج کو مصر سمجھ لیں جو در حقیقت مفید ہوں اور اس طرح ٹھوکر کھا جائیں ۔ اس ٹھوکر سے بچنے کی ایک ہی تدبیر ہے جو ہمارے علم کی کمزوری کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ہماری خواہشات کی خامیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ علیم و قدیر ہستی جسے ذرہ ذرہ کا علم ہے اور وہ رحمن اور رحیم ہستی جو اپنے بندوں کی تکالیف کو نہیں دیکھ سکتی، جس کی نظروں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ، اُسی سے