خطابات نور — Page 522
میں تو ہلاکت کی راہ ہی نہیں یہ تو ہمیں امیر، باعزت، صاحب <mark>جا</mark>ہ وجلال اور بڑا بنانے کے لئے نازل ہوا تھا نہ کہ ذلت دینے اور ذلیل <mark>کر</mark>نے کو۔پھر کیا وجہ ہے کہ آج درس تدریس <mark>کر</mark>نے والے اذلّ ترین مخلوق سمجھے گئے ہیں۔اس کی وجہ میں بتاتا ہوں۔میں ایک طبیب ہوں۔طب کا بڑا حصہ تو ڈاکٹروں کے پاس ہے۔پھر اس کا بہت سا حصہ عورتوں نے لے لیا۔کچھ حصہ دائیوں کے پاس ہے، کچھ حلوائیوں کے پاس پھر کچھ حصہ کنجروں، ڈوموں اور مراسیوں نے لے لیا ہے۔ہمیں بھی ایک حصہ ملا ہوا ہے اس حصے کے ذریعے سے امیر، غریب، شریف، رذیل، نیک، بد، بچے، جوان، بوڑھے غرض ہر قسم کی مخلوق سے ملاقات رہی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ امراء کے لئے کوئی شریعت نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم عیش وعشرت <mark>کر</mark>نے اورگُل چھڑے اڑانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہم نے رنڈی بازی <mark>کر</mark>نی ہے اور ہم نے شراب بھی پینی ہے۔وہ محلہ میں مسجد کے ملّا سے مل <mark>کر</mark> کسی عورت کا نکاح دو دفعہ <mark>کر</mark>ا دیں، چار دفعہ <mark>کر</mark>ا دیویں کوئی ان کے روبرو انہیں مطعون نہیں <mark>کر</mark>تا۔امیر مسجد میں <mark>جا</mark>تے ہی نہیں۔ان میں سے جو نیک ہیں وہ نماز اگر پڑھتے بھی ہیں تو گھروں ہی میں کبھی کبھی پڑھ لیتے ہیں مگر مسجد میں آنے کو وہ باعث خفت وحقارت سمجھتے ہیں۔امامت جو بڑا عظیم الشان کام تھا وہ اب اذلّ ترین کام سمجھا <mark>جا</mark>تا ہے۔میں نے سادات سے پوچھا ہے کہ تم نے امامت کیوں چھوڑ دی؟ جواب میں مجھے ہر دفعہ یہی بتایا گیا کہ یہ شرفا کا کام نہیں۔یہ تو کمینہ قوم کے لوگوں مشٹنڈے، جولاہوں، ملانوں وغیرہ کا کام ہے۔اس کو یہاں تک حقیر سمجھا گیا ہے کہ بڑے بڑے سادات اور امیر نمازوں میں آنا عار سمجھنے لگے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ احکام کتاب اللہ پر <mark>عمل</mark>درآمد <mark>جا</mark>تا رہا۔یہ تو ان کا ذ<mark>کر</mark> ہے جو کچھ زمانہ دیکھ چکے ہیں جو آگے تیار ہو رہے ہیں ان کی حالت اللہ کے سپرد ہے۔کئی لاکھ لڑکے کالجوں میں پڑھتے ہیں ان کو کبھی برائے نام بھی خدا کی ذات وصفات کے متعلق ف<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>نے کا موقع نہیں ملتا سوائے اس کے کہ اپنے لباس کا خیال ہو۔اپنے کوٹ، پتلون، بوٹ کا خیال ہو یا اپنی انگریزی تعلیم کا خیال ہو انہیں اور کوئی خیال ہی نہیں ہوتا۔ہزاروں ہزار مسلمان لنڈن کو <mark>جا</mark>تے ہیں، جب وہ اپنے سفر کے متعلق ذ<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>تے ہیں تو پہلے اپنی ٹھاٹھ کا ذ<mark>کر</mark> <mark>کر</mark>تے ہیں اور بڑے مزے سے چٹکیاں لے <mark>کر</mark> کہا <mark>کر</mark>تے ہیں کہ ہمیں اسٹیشن پر چھوڑنے کے لئے اس قدر مخلوق تھی۔اس