خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 115 of 660

خطابات نور — Page 115

اعمال صالحہ کے ہیں۔اسی دنیا میں بھی پاسکتا ہے اگر سچا مومن ہو بلکہ اگر کوئی شخص اس دنیا میں کوئی اثر اور نتیجہ نہیں پاتا ہے تو اسے استغفار <mark>کر</mark>نی چاہئے۔اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں اندھا نہ اٹھایا <mark>جا</mark>ئے۔(بنی اسرائیل :۷۳) حضرت امام <mark>علیہ</mark> الصلوٰۃ والسلام نے بارہا اس سوال کو چھیڑا ہے اور اپنی تقریروں میں بیان کیا ہے کہ بہشتی زندگی اور اس کے آثار اور ثمرات اسی عالمَ سے شروع ہو<mark>جا</mark>تے ہیں۔جو شخص اس جگہ سے وہ قویٰ نہیں لے <mark>جا</mark>تا وہ آخرت میں کیا پائے گا اور یہ ایک امتیازی نشان ہے جو آپ نے دوسرے مذاہب باطلہ کے ردّکے لئے پیش کیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی ن<mark>جا</mark>ت یافتہ ہے تو وہ آئے میرے ساتھ ثمرات و نتائج میں مقابلہ <mark>کر</mark>ے اور کوئی نہیں آتا۔پس یہ تو بالکل سچا فیصلہ ہے کہ مومن اور کافر کی عام شناخت کا تو وہی وقت ہے جبکہ ایک فریق جنت میں <mark>جا</mark>وے گا اور دوسرا دوزخ میں لیکن چونکہ بہشتی اور جہنمی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو<mark>جا</mark>تی ہے اس لئے یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ اسی عالمَ میں اللہ تعالیٰ کے اس فتوے کا پتا لگ <mark>جا</mark>تا ہے۔اس لئے میں تمہیں نصیحت <mark>کر</mark>تا ہوں کہ تم زمینی اور خیالی باتوں پر صبر <mark>کر</mark>نے والے نہ بنو۔اپنے تجویز <mark>کر</mark>دہ ناموں پر خوش۔بلکہ اس ف<mark>کر</mark> میں لگے رہو کہ آسمان سے تمہیں سرٹیفکیٹ مل <mark>جا</mark>ئے۔میں اس پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ حقیقی مومن خدا تعالیٰ سے براہِ راست بھی مومن ہونے کا فتویٰ سن لیتا ہے۔جس کا زندہ نمونہ ہمارا مام <mark>علیہ</mark> الصلوٰۃ والسلام موجود ہے جس کو کھلے الفاظ میں حکم ہوگیا ہے۔قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَاَ نَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ (تذ<mark>کر</mark>ہ صفحہ۱۵۸ )یہی وجہ ہے کہ ان فتویٰ اور کاغذات کی جو اس کے خلاف شائع کئے <mark>جا</mark>تے ہیں وہ ایک پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں سمجھتا۔اسے پروا نہیں کہ اسے کن ناموں سے یاد کیا <mark>جا</mark>تا ہے بلکہ وہ اس کے جواب میں کیا کہتا ہے؟ کافر و ملحد و د<mark>جا</mark>ل ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غمِ ملت میں رکھایا ہم نے (درثمین صفحہ ۱۷) اسے کیوں ان مخلوق پرستوں کے فتووں کی پروا نہیں صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ سے اس نے سن لیا ہے کہ وہ اول المؤمنین ہے اور مومنین کے ثمرات و برکات اس پر نازل ہورہے ہیں۔آج کل بہت سے