کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 279

کرامات الصادقین — Page 275

كرامات الصادقين ۲۷۵ اُردو ترجمہ الذي اسمه عبد اللہ آتھم ایک شخص نے جس کا نام عبد اللہ آتھم امرتسری العنبر سرى إنه كان أراد أن يشدّ ہے مجھ سے مباحثہ کیا ۔ اُس نے ارادہ کیا تھا کہ جبائر الحيل على دين النصاری وہ مکاریوں کی پٹیاں دین نصاری ( کے گرد ) ويوارى سَوْءَ تَه ۔ فصال علی باندھے اور اس کی لاش کو چھپائے ۔ پس اُس الإسلام وكان من المتشددين نے اسلام پر حملہ کیا اور وہ شدت پسندوں میں وباحثني في حلقة مختصة بالأنام سے تھا۔ اُس نے مجھ سے لوگوں سے بھری ہوئی مختصة بالزحام وزخرف مجلس میں جو اس ہجوم کے لئے مختص تھی مباحثہ کیا مكائده لإرضاء الكافرين۔ فثنيتُ اور کافروں کو راضی کرنے کے لئے اپنی إليه عنانى وأبثته من معارف مگاریوں پر ملمع سازی کی ۔ پس میں نے اپنی بیانی و جعلته من المفحمين۔ توجہ اُس کی طرف موڑی اور اپنے بیان کے فما وجم من قلة الحياء معارف اس کے سامنے کھول کر رکھے اور اس کا وكان يجمح في جهلاته ويسدر منہ بند کر دیا۔ لیکن حیاء کی کمی کی وجہ سے وہ چپ في الغلواء ۔ وامتدت المباحثة نہ ہوا اور اپنی جہالت میں سرکشی دکھائی اور غلو إلى نصف الشهر وكنا نغدو إليه میں بڑھتا گیا ۔ اور یہ مباحثہ نصف مہینہ تک ممتد بعد صلاة الفجر ونرجع فی ہو گیا ۔ ہم نماز فجر کے بعد اُس کے پاس جاتے وقت الهجير عند اشتداد حر تھے اور دو پہر کے وقت جبکہ گرمی کی شدت ہوتی الظهيرة وتركنا الاستراحة تھی واپس لوٹتے تھے اور ہم نے مجاہدین کی كالمجاهدين۔ فبينما أنا في فكر طرح آرام ترک کر دیا تھا۔ اسی دوران جبکہ لأجل ظفر الإسلام وإفحام اللئام میں غلبہ اسلام اور کمینوں کا منہ بند کرنے کی فکر فإذا بشرني ربي بعد دعوتی میں تھا تو میرے رب نے مجھے میری دعا کے بعد ۳۶۷