کرامات الصادقین — Page 264
اردو ترجمہ ۲۶۴ كرامات الصادقين الجناب مقبل الأعتاب چشمے جاری رکھے۔ آپ ہمیشہ خدا کی جناب میں فوجدتها القدح المعلی بلند مرتبہ اور شرف باریابی پاتے رہیں۔ پس میں نے والدرة اليتيمة والروضة اس کو عالی نصیب گوہر نایاب اور سرسبز بستان اور الأريضة والحديقة المثمرة پھلدار باغ پایا اور یہ کیوں نہ ہوتا کہ اس کا لکھنے والا وكيف لا وموجدها ایسا ماہر مصنف ہے جس کی عظمت شان کی طرف حبر يشار إليه بالأنامل انگلیوں سے اشارہ کیا جاتا ہے۔اور بحر بیکراں وبحر ليس له من ساحل ہے۔ گویا کہ میں نے اپنے ان اشعار میں آپ کو ہی فكأنما قد عنيته بقولي إذ مراد لیا ہے کیونکہ آپ اس کے سب سے مستحق اور كان به أحرى وبسره أدرى ۔ اس کے راز کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ هيهات يوجد في الزمان نظيره زمانے میں اس کی نظیر ملنا بعید ہے اور میں قسم کھاتا ہوں ولقد حلفت بأنه لا يوجد کہ اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ اللہ کی قسم جو منی کی طرف بالله رب الراقصات إلى مِنی جانے والی سواریوں اور کھڑے ہوئے افراد جو راتوں والقائمين ظلامهم يتهجدوا کو اندھیروں میں تہجد ادا کرتے ہیں کا رب ہے۔ فلله دره ولا فُضَّ فُوه پس آپ کی شان اقدس کے کیا کہنے۔ ولا عـدمــــه بنوه إذ قد آپ کا حسن دائمی رہے اور اس کی عمر لمبی ہو، أحسن وأجاد وبالغ فیما کیونکہ آپ نے اسے بہت ہی اچھا اور عمدہ بنایا به أفاد۔ اور اسے اپنی افادیت میں انتہا تک پہنچایا۔ تمت ۳۵۶ تمَّت