کرامات الصادقین — Page 204
اردو ترجمہ ۲۰۴ كرامات الصادقين التقاة بعد مقاناة العُصاة متقیوں کے زمرہ میں داخل کر دیتا ہے اور اُسے وأراه سبــــل الـــذين أنعم منعم عليهم کی راہیں دکھاتا ہے نہ کہ مغضوب عليهم غير المغضوب عليهم عليهم كى نہ ضالین کی صراطِ مستقیم ولا الضالين۔ وأما حقيقة کی حقیقت جو دین متین کے مد نظر ہے وہ یہ ہے الصراط المستقيم التي أُريدتُ کہ جب بندہ اپنے فضل واحسان والے خدا سے في الدين القويم فهى محبت کرنے لگے۔ اُس کی رضا پر راضی أن العبد إذا أحب ربَّه رہے۔ اپنی روح اور دل اُس کے سپرد کر دے المنان وكان راضيا بمرضاته اور اپنے آپ کو اُس خدا کو سونپ دے جس نے وفوض إليه الروح والجنان انسان کو پیدا کیا ہے۔ اُس کے علاوہ کسی اور کو نہ وأسلم وجهه لله الذي خلق پکارے ۔ اُسی سے خالص محبت رکھے۔ اُسی سے الإنسان وما دعا إلا إياه مناجات کرے اور اُسی سے رحمت و شفقت وصافـــاه وناجاه وسأله مانگے ۔ اپنی بے ہوشی سے ہوش میں آجائے ۔ اپنی الرحمة و الحنان و تنبه چال سیدھی کرے اور خدائے رحمان سے ڈرے۔ من غشيه و استقام في محبت الہی اُس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر مشيه وخشي الرحمن و شغفه جائے ۔ اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کرے اور اُس کے الله حبا وأعان وقوی یقین اور ایمان کو پختہ کرے۔ تب بندہ اپنے اليقين والإيمان فمال پورے دل ، اپنے فہم ، اپنی عقل ، اپنے اعضاء اور العبد إلى ربه بكل قلبه اپنی زمین اور کھیتی باڑی سب کے ساتھ کلی طور پر وإربـه وعقله وجوارحه اپنے رب کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور اس کے سوا سب سے منہ موڑ لیتا ہے۔ اُس کے لئے اس کے وأرضه وحقله وأعرض عما سواه وما بقى له إلا ربه اپنے رب کے سوا اور کچھ بھی باقی نہیں رہ جاتا۔ وما تبع إلا هواه وجاءه وه اپنے محبوب ہی کی پیروی کرتا ہے ۔اور ۲۹۶ ۹۲