کرامات الصادقین — Page 194
كرامات الصادقين ۱۹۴ اُردو ترجمہ التي بينهم وبين ما يصلون بنتی ہیں جو بنی آدم اور نفوس عالیہ مثلاً نفس عرش إليه من النفوس كنفس اور عقول مجردہ میں موجود ہیں جن تک بنی آدم العرش والعقول المجردة نے پہنچنا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں إلى أن يصلون إلى المبدأ تک کہ بنی آدم مبدء اوّل اور علتِ عِلل الأول وعلة العلل ۔ ثم إذا ذات باری ) تک پہنچ جائیں ۔ پھر جب أعان السالك الجذبات الہی کشش اور اس کی رحمانیت کی بادِ نسیم الإلهية و النسيم الرحمانية سالک کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ اس کے بہت فيقطع كثيرا من حجبه سے پر دے دور کر دیتا ہے اور اُسے مقصد کی وينجيه من بعد المقصد ڈوری سے اور بہت سی درمیانی روکوں اور وكثرة عقباته و آفاته و ينوره آفات سے نجات دے دیتا ہے۔ اور اُس بالنور الإلهي ويدخله في (سالک کو ) الہی نور سے منور کر دیتا ہے ۔ اور الواصلين۔ فيكمل له الوصول زمره واصلین میں داخل کر دیتا ہے۔ اور والشهود مع رؤيته عجائبات ( راہ سلوک کی منزلوں اور مقامات کے المنازل والمقامات۔ ولا شعور عجائبات دیکھنے کے ساتھ ساتھ وہ وصالِ الہی لأهل العقل بهذه المعارف اور دیدار الہی کے مرتبہ وصول و شہود کو پالیتا والنكات ولا مدخل للعقل ہے ۔ لیکن فلسفیوں کو ان معارف اور نکات کا فيه والاطلاع بأمثال هذه کچھ بھی پتہ نہیں اور نہ ہی محض عقل کو اس میں المعاني إنما هو من مشكاة کوئی دخل ہے۔ اور ایسے مطالب اور معانی پر النبوة والولاية وما شمت آگہی صرف مشکوۃ نبوت اور ولایت سے العقل رائحته وما كان حاصل ہوتی ہے اور عقل اس کی مہک کو نہیں لعاقل أن يضع القدم فی پاسکتی ۔ اور نہ کسی عاقل کے لئے ممکن ہے کہ هذا الموضع إلا بجذبة وہ اس مقام پر بجز رب العالمین کی کسی کشش ۲۸۶