کرامات الصادقین — Page 151
كرامات الصادقين ۱۵۱ اردو ترجمہ كل عبد مذنب سواء عليه نیش زنی کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر بلغه كتاب من الله تعالی انسان گنہ گار ہے خواہ اُسے خدا تعالیٰ کی وأعطى له عقل سليم أو كان كتاب پہنچی ہو اور اُسے عقلِ سلیم عطا ہوئی من المعذورين۔ وزعموا ہو یا وہ معذوروں میں سے ہو اور ان کا دعوی أن الله تعالى لا يغفر أحدًا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح علیہ السلام ( کی صلیبی موت ) إلا بعد إيمانه بالمسيح پر ایمان لائے بغیر کسی کو نہیں بخشا اور ان کا یہ بھی وزعموا أن أبواب النجاة دعوی ہے کہ مسیح پر ایمان نہ لانے والے پر نجات مغلقة لغيره ولا سبيل إلى كے دروازے بند ہیں۔ اور محض اعمال سے المغفرة بمجرد الأعمال مغفرت تک پہنچنے کا کوئی امکان نہیں ۔ کیونکہ فإن الله عادل والعدل اللہ تعالیٰ عادل ہے اور عدل اس بات کا مقتضی ہے کہ يقتضي أن يعذب من كان جو بھی گنہ گار اور مجرم ہو اس کو سزا دی جائے ۔ پس مذنبا وكان من المجرمين۔ جب اس بارہ میں کامل مایوسی واضح ہوگئی کہ لوگ فلما حصحص اليأس من اپنے اعمال کے ذریعہ (گناہوں سے) پاک ہو أن تطهر الناس بأعمالهم سکيں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاکیزہ بیٹے کو بھیجا تا وہ أرسل الله ابنه الطاهر ليزر لوگوں کے گناہ کے ) بوجھ اپنی گردن پر اٹھالے وِزْرَ الناس على عنقه اور پھر صلیب دیا جائے ۔ اور اس طرح لوگوں کو ان ثم يُصلب ويُنجي الناس کے گناہ کے بوجھوں سے نجات دلائے ۔ پس من أوزارهم فجاء الابن خدا کا بیٹا آیا اور وہ خود قتل ہوا اور عیسائیوں نے وقتل ونجي النصارى فدخلوا نجات پائی اور وہ نجات کے باغیچوں میں خوش و خرم في حدائق النجاة فرحين۔ داخل ہو گئے ۔ یہ ان کا عقیدہ ہے لیکن جو شخص عقل هذه عقيدتهم ولكن من کی آنکھ سے اس عقیدہ کو پر کھے اور اُسے تحقیقات نقدها بعين المعقول و کی کسوٹی پر کسے تو وہ اُسے محض غیر معقول باتوں ۲۴۳