کرامات الصادقین — Page 150
اردو ترجمہ ۱۵۰ كرامات الصادقين موت أنفسهم فيتوبون إلى الله - دوستوں کی مفارقت انہیں اپنی موت ( کا نظارہ) وهم من الصالحین فلعلک دکھا دیتی ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع فهمت أن هذا الفيضان ينزل من کرتے ہیں اور نیکو کار بن جاتے ہیں۔ اب شاید تم السماء على شريطة العمل سمجھ گئے ہو گے کہ اس فیضان کا آسمان سے نازل والتورّع والسمت الصالحة ہونا عمل (صالح)، پرہیز گاری، راست والتقوى والإيمان ولا وجود روی پارسائی اور ایمان کے ساتھ مشروط له إلا بعد وجود العقل والفهم ہے اس فیض کا وجود عقل اور فہم کے وجود اور وبعد وجود کتاب الله تعالی کتاب اللہ اور اس کی حدود اور احکام کے وحدوده وأحكامه وكذلك نزول کے بعد ہی ممکن ہے۔ اسی طرح جو المحرومون من هذه النعمة لوگ اس نعمت سے محروم ہیں وہ ان لا يستحقون عتابا ومؤاخذة شرائط ( کے پورا ہونے ) سے قبل کسی عتاب من قبل هذه الشرائط ۔ فظهر يا مواخذہ کے مستحق نہیں ٹھہرتے ۔ لہذا ظاہر أن الرحيمية توءم لكتاب الله ہو گیا کہ رحیمیت کی صفت اللہ تعالیٰ کی کتاب وتعليمه و تفهیمه فلا يؤخذ اور اس کی تعلیم و تفہیم کی تو ام ہے۔ اور اس أحد قبله ولا يُدرك أحدا کتاب اللہ کے نزول ) سے قبل کسی پر عطب القهر إلا بعد ظهور گرفت نہیں ہوتی اور نہ کسی پر اللہ تعالیٰ کا هذه الرحيمية ولا يُسأل شدید غضب نازل ہوتا ہے جب تک یہ فاسق عن فسقه إلا بعدها ۔ رحیمیت ظاہر نہ ہو ۔ کسی بد کار انسان سے اس فخذ هذا السر منى وهو رد کی بدکاری کے متعلق مواخذہ اس کے بعد ہی على المتنصرين۔ فإنهم قائلون ہوگا ۔ پس یہ بھید کی بات مجھ سے سمجھ لے اور بلسع الذنب من آدم إلی یہ عیسائیوں کی زبر دست تردید ہے کیونکہ وہ انقطاع الدنيا ويقولون إن تو آدم سے لے کر دنیا کے خاتمہ تک گناہ کی ۲۴۲ 17