کلام محمود مع فرہنگ — Page 174
تم <mark>میرے</mark> قتل کو نکلے تو ہو پر غور کرو! شیشے کے ٹکڑوں کو نسبت بھلا کیا ہیروں سے جن کی تائید میں مولی ہو انھیں کس کا ڈر کبھی صیاد بھی ڈر سکتے ہیں نچیروں سے حضور نے یہ نظم 1924 ء کے سفر یورپ کے دوران کہی۔اخبار الفضل جلد 12-11 ستمبر 1924ء یہ 172