کلام محمود مع فرہنگ — Page 173
پھیر لو جتنی جماعت سے مری بعیت میں باندھ لو ساروں کو تم م<mark>کر</mark>وں کی زنجیروں سے پھر بھی مغلوب رہو گے میرے تایوم البعث ہے یہ تقدیر خداوند کی تقدیروں سے ماننے وا<mark>لے</mark> میرے بڑھ کے رہیں گے تم سے یہ قضا وہ ہے جو بد<mark>لے</mark> گی نہ تدبیروں سے مجھے کو حاصل نہ اگر ہوتی خُدا کی امداد کب کے تم چھید چکے ہوتے مجھے تیروں سے ایک تنکے سے بھی بدتر تھی حقیقت میری فضل نے اس کے بنایا مجھے شہتیروں سے تم بھی گر چاہتے ہو کچھ تو مجھکو اس کی طرف فائدہ کیا تمھیں اس قسم کی تدبیروں سے نفس طامع بھی کبھی دیکھتا ہے روئے نجات فتح ہوتے ہیں کبھی ملک بھی کف گیروں سے 171