مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 39

مجموعه اشتہارات ۳۹ جلد سوم خبر پہنچی ہے کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی نے میرے ظہور کی نسبت پیشگوئی کی تھی ۔ ان دونوں صاحبوں میں سے ایک صاحب کا نام حافظ محمد یوسف ہے جو داروغہ نہر ہیں اور غالباً اب مستقل سکونت امرتسر میں رکھتے ہیں ۔ دوسرے صاحب منشی محمد یعقوب نام ہیں اور یہ دونوں حقیقی بھائی ہیں اور یہ دونوں صاحب عبد اللہ صاحب کے خاص معتقدین اور مصاحبین میں سے ہیں جس سے کسی صاحب کو بھی انکار نہیں اور ان کی گواہیاں اگر چہ دو ہیں مگر حاصل مطلب ایک ہی ہے۔ حافظ محمد یوسف صاحب کا حلفی بیان جس کے غالباً دو سو کے قریب گواہ ہوں گے یہ ہے کہ ایک دن عبداللہ صاحب نے مجھے فرمایا کہ میں نے کشفی طور پر دیکھا ہے کہ ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا ہے اور میری اولا د اس سے محروم رہ گئی ہے یعنی اس کو قبول نہیں کیا اور وہ انکار اور مخالفت پر مرے گی اور منشی محمد یعقوب صاحب کا ایک تحریری بیان ہے جو ایک خط میں موجود ہے جو ابھی ۳۰ ر ا پریل ۱۹۰۰ ء کو بذریعہ منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ سے مجھ کو پہنچا ہے جس کو انہوں نے بتاریخ ۲۴ را پریل ۱۹۰۰ ء اپنے ہاتھ سے لکھ کر منشی ظفر احمد صاحب کے پاس بھیجا تھا اور انہوں نے میرے پاس بھیج دیا جو اس وقت میرے سامنے رکھا ہے اور جو شخص چاہے دیکھ سکتا ہے مگر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس تمام حقیقت کے سمجھانے کے لئے وہ حالات بھی لکھ دوں جو مجھے معلوم ہیں کیونکہ جو کچھ خط میں ایک کمزور عبارت میں لکھا گیا ہے اسی کو منشی محمد یعقوب صاحب ایک بڑے شد و مد سے میرے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مگر چونکہ اب وہ اور اُن کے دنیا سے پیار کرنے والے بھائی حافظ محمد یوسف شیعوں کی طرح خلافت حقہ سے انکار کر کے تقیہ کے رنگ میں بسر کر رہے ہیں اس لئے اب اُن کے لئے ایک موت ہے کہ سچا واقعہ مجلس میں اُسی شد و مد کے ساتھ منہ پر لاویں تا ہم امید نہیں کہ وہ اس شہادت کو مخفی رکھیں کیونکہ حق کو چھپانا لعنتیوں کا کام ہے نہ قرآن شریف کے حافظوں کا ۔ اس لئے ہم بھی منتظر ہیں کہ ان کی طرف سے کیا آواز آتی ے ۔ منشی محمد یعقوب صاحب تو بوجہ اس خط کے قابو میں آگئے ہیں مگر حافظ محمد یوسف صاحب کے لئے اس وقت تک حیلہ بازی کی راہ کھلی ہے جب تک کہ قرآن شریف ہاتھ میں دے کر ایک مجمع ہے۔