مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 474
مجموعه اشتہارات ۴۷۴ جلد سوم طور پر مضمون سنائے جائیں گے ۔ اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ اگر بدیتی نہ ہو تو ایک شخص اپنے اعتراض کو نیک اور پاک پیرا یہ میں بیان کر سکتا ہے ورنہ ایک مفسد آدمی ایک سیدھی بات کو بھی جو نرمی اور شرافت سے ادا کر سکتا تھا گالی اور ہنسی ٹھٹھے کے پیرایہ میں بیان کر سکتا ہے۔ سو ہم نے ان لوگوں کے جواب میں جس قدر تلخی اور مرارت بعض مقامات میں استعمال کی ہے وہ کسی نفسانی جوش کی وجہ سے نہیں بلکہ ہم نے اُن کی شورہ پشتی کا تدارک اسی میں دیکھا کہ جواب تر کی بٹر کی دیا جائے ہمیں اس طریق سے سخت نفرت ہے کہ کوئی تلخ اور ناگوار لفظ استعمال کیا جائے ۔ مگر افسوس ! کہ ہمارے مخالف انکار کے جوش میں آکر انجام کا رگالیوں پر اتر آتے ہیں۔ اور آریہ صاحبان اگر ذرہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اسلام پر اعتراض کرنے کا اُن پر بالکل راہ بند ہے۔ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ اسلام میں کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہندوؤں کے کسی فرقہ سے مطابقت اور تو ارد نہ رکھتا ہو۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وید کی پیروی کا دعویٰ کرنے والے صرف آریہ سماج والے ہی نہیں ہیں بلکہ یہ تو ایک نیا فرقہ سمجھا جاتا ہے۔ اور پرانے فرقے جو دید پر چلنے کے مدعی ہیں جو اس ملک پنجاب اور ہندوستان میں کروڑ ہا پائے جاتے ہیں اُن کی طرف دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کیا عقا ئد رکھتے ہیں۔ انہیں میں آتش پرست بھی پائے جاتے ہیں اور انہیں میں آفتاب پرست بھی اور انہیں میں سے بت پرست بھی ہیں۔ اور وہ لوگ بھی جو ہر سال کئی لاکھ ہر دوار کے میلہ پر جمع ہوتے اور گنگا مائی سے مرادیں مانگتے ہیں۔ اور وہ بھی جو جگن ناتھ جی کا درشن کرنا اور پہیہ کے نیچے کچلے جانا اپنا فخر سمجھتے ہیں۔ اور وہ بھی ہیں جواب تک کانگڑہ کے مندر پر جانوروں کی قربانیاں چڑھاتے ہیں۔ اور وہ بھی جو انسانی قربانی کو بھی روا رکھتے ہیں اور جل پروا کی رسم کے بھی حامی ہیں۔ آخر یہ سب لوگ یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ وید کے پیرو ہیں۔ بلکہ شاکت مت والے بھی تو اسی قوم میں سے ہیں جو فسق و فجور میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ بدکاریوں کا میدان اس قدر انہوں نے فراخ کر دیا ہے جو حقیقی ماں یا بہن یا لڑکی سے بھی حرام کاری کرنا کچھ مضائقہ نہیں سمجھتے کیا وہ آریہ نہیں ہیں ۔ پھر جبکہ وید کی پیروی کرنے والے فسق و فجور اور شرک اور مخلوق پرستی میں اس حد تک پہنچے ہوئے ہیں کہ دنیا میں اُن کی نظیر نہیں مل سکتی تو کیا لازم تھا کہ اسلام یہ