مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 407

مجموعه اشتہارات ۴۰۷ جلد سوم بت تو ایسے خدا کو کون عارف قبول کر سکتا ہے۔ پس سچی اور کامل شریعت وہی ہے جو زندہ خدا کو اس کی قدرتوں اور نشانوں کے ساتھ دکھلاتی ہے اور وہی ہے جس کے ذریعہ سے انسان شریعت کے دوسرے حصہ میں بھی کامل ہو سکتا ہے اور شریعت کا دوسرا ٹکڑہ یہ ہے کہ انسان ان تمام گنا ہوں سے پر ہیز کرے جن کی جڑ بنی نوع پر ظلم ہے ۔ جیسے زنا کرنا ، چوری کرنا خون کرنا، جھوٹی گواہی دینا اور ہر ایک قسم کی خیانت کرنا اور نیکی کرنے والے کے ساتھ بدی کرنا اور انسانی ہمدردی کا حق ادا نہ کرنا۔ پس اس دوسرے حصہ شریعت کو حاصل کرنا بھی پہلے حصہ کے حصول پر موقوف ہے۔ اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ پہلا حصہ یعنی خدا شناسی کسی طرح ممکن نہیں جب تک خدا کو اس کی تازہ قدرتوں اور تازہ نشانوں کے ساتھ شناخت نہ کیا جاوے ورنہ بغیر اس کے خدا پرستی بھی ایک بت پرستی ہے کیونکہ جبکہ خدا محض ایک بت کی طرح ہے جو سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ کوئی قدرت دکھلا سکتا ہے تو اس میں اور ایک بت میں فرق کیا ہے۔ زندہ خدا کی علامات چاہیں اور اگر وہ ہمارے سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ کوئی قدرت دکھلا سکتا ہے تو کیونکر معلوم ہو کہ وہ موجود ہے۔ صرف اپنی خود تراشیدہ باتوں سے کیونکر اس کی ہستی ثابت ہو جبکہ ہر ایک انسان اپنی زندگی ثابت کرنے کا آپ ذمہ دار ہے تو پھر کیا وجہ کہ خدا اپنی زندگی ثابت نہیں کر سکتا ۔ کیا خدا انسان سے بھی زیادہ کمزور ہے یا کیا اس کی قدرت آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ اور اگر اب اس میں کلام کرنے کی طاقت باقی نہیں رہی تو اس پر کیا دلیل ہے کہ پہلے وہ طاقت موجود تھی اور اگر وہ اس زمانہ میں بول نہیں سکتا تو اس پر کیا دلیل ہے کہ وہ اس زمانہ میں سن سکتا ہے اور دعائیں قبول کر سکتا ہے اور اگر کسی زمانہ میں اس نے اپنی قدرتیں ظاہر کی ہیں تو اب کیوں ظاہر نہیں کر سکتا تا دہریوں کے منہ میں خاک پڑے ۔ پس اے عزیز و ! وہ قادر خدا جس کی ہم سب کو ضرورت ہے وہ اسلام ہی نے پیش کیا ہے۔ اسلام خدا کی قدرتوں کو ایسا ہی پیش کرتا ہے جیسا کہ وہ پہلے ظہور میں آئی تھیں ۔ یا د رکھو اور خوب یا د رکھو کہ بغیر اس کے کہ خدا کی قدرتیں اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان ظاہر ہوں کوئی شخص خدا پر