مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 383
مجموعه اشتہارات ۳۸۳ جلد سوم دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے میرے سورج دکھا اس دیں کے چپکانے کے دن دل گھٹا جاتا ہے ہر دم جاں بھی ہے زیر و زبر اک نظر فرما کہ جلد آئیں تیرے آنے کے دن چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیں گے ترسانے کے دن کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے کیا میرے دلدار تو آئیگا مرجانے کے دن ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آ میرے اے نا خدا آ گئے اس باغ پر اے یار مُرجھانے کے دن تیرے ہاتھوں سے میرے پیارے اگر کچھ ہو تو ہو ورنہ دیں میت ہے اور یہ دن ہیں دفنانے کے دن اک نشاں دکھلا کہ اب دیں ہو گیا ہے بے نشاں دل چلا ہے ہاتھ سے لا جلد ٹھہرانے کے دن میرے دل کی آگ نے آخر دکھایا کچھ اثر آگئے ہیں اب زمیں پر آگ بھڑکانے کے دن جب سے میرے ہوش غم سے دیں کے ہیں جاتے رہے طور دنیا کے بھی بدلے ایسے دیوانے کے دن چاند اور سورج نے دکھلائے ہیں دو داغ کسوف پھر زمیں بھی ہو گئی بے تاب تھرانے کے دن کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا لرزہ آیا اس زمیں پر اس کے چلانے کے دن صبر کی طاقت جو تھی مجھ میں وہ پیارے اب نہیں میرے دلبر اب دکھا اس دل کے بہلانے کے دن دوستو! اُس یار نے دیں کی مصیبت دیکھ لی آئیں گے اس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن اک بڑی مدت سے دیں کو گھر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن دن بہت ہیں سخت اور خوف و خطر در پیش ہے پر یہی ہیں دوستو! اُس یار کے پانے کے دن دیں کی نصرت کے لئے اک آسماں پر شور ہے اب گیا وقت خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن چھوڑ دو وہ راگ جس کو آسماں گاتا نہیں اب تو ہیں اے دل کے اندھو! دیں کے گن گانے کے دن خدمتِ دیں کا تو کھو بیٹھے ہو بغض وکیں سے وقت اب نہ جائیں ہاتھ سے لوگو یہ پچھتانے کے دن مرزاغلام احمد بقلم خود ۔ رئیس قادیان گورداسپور پنجاب روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۳۸، ۷۳۹)