مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 353

مجموعه اشتہارات ۳۵۳ جلد سوم کہ محلوں اور مقاموں کا نام ونشان نہیں رہے گا۔ طاعون تو صرف صاحب خانہ کو لیتی ہے۔ مگر جس حادثہ کی اس وحی الہی میں خبر دی گئی تھی اس کے یہ معنے ہیں کہ نہ خانہ رہے گا نہ صاحب خانہ ۔سو خدائے تعالیٰ کا فرمودہ جس طور سے اور جس صفائی سے پورا ہو گیا آپ صاحبوں کو معلوم ہے۔ اس کی نسبت اشتہار الوصیت میں بھی خبر دی گئی تھی۔ وہ تو جو ہوا سو ہوا۔ مگر اس کے بعد جو آنے والا حادثہ ہے وہ بہت بڑھ کر ہے۔ خدائے تعالیٰ لوگوں پر رحم کرے ۔ ان کو تقوی اور نیک اعمال کا خیال آ جاوے۔ بقیہ ترجمہ عربی وحی کا یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی کر کے اپنے تئیں بچالو۔ قبل اس کے جو وہ ہولناک دن آوے جو ایک دم میں تباہ کر دے گا۔ اور فرماتا ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے جو نیکی کرتے ہیں اور بدی سے بچتے ہیں ۔ اور پھر اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میرافضل تیرے نزدیک آ گیا یعنی وہ وقت آگیا کہ تو کامل طور پر شناخت کیا جاوے حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جو کچھ نشان ظاہر ہوا اور ہو گا اس سے یہ غرض ہے ے یہ غرض ہے کہ لوگ بدی سے باز آویں اور اس خدا کے فرستادہ کو جو ان کے درمیان ہے شناخت کر لیں ۔ پس اے عزیز و! جلد ہر ایک بدی سے پر ہیز کرو کہ پکڑے جانے کا دن نزدیک ہے۔ ہر ایک جو شرک کو نہیں چھوڑتا وہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو فسق و فجور میں مبتلا ہے۔ وہ پکڑا جاوے گا۔ ہر ایک جو دنیا پرستی میں حد سے گزر گیا ہے اور دنیا کے غموں میں مبتلا ہے وہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو خدا کے وجود سے منکر ہے، وہ پکڑا جائے گا۔ ہر ایک جو خدا کے مقدس نبیوں اور رسولوں اور مُرسلوں کو بد زبانی سے یاد کرتا ہے اور باز نہیں آتا وہ پکڑا جائے گا۔ دیکھو! آج میں نے بتلا دیا۔ زمین بھی سنتی ہے اور آسمان بھی کہ ہر ایک جو راستی کو چھوڑ کر شرارتوں پر آمادہ ہو گا۔ اور ہر ایک جو زمین کو اپنی بدیوں سے نا پاک کرے گا وہ پکڑا جائے گا۔ خدا فرماتا ہے کہ قریب ہے جو میرا قہر زمین پر اترے کیونکہ زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی ہے۔ پس اُٹھو اور ہوشیار ہو جاؤ کہ وہ آخری وقت قریب ہے جس کی پہلے نبیوں نے بھی خبر دی تھی۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا کہ یہ سب باتیں اس کی طرف سے ہیں ۔ میری طرف سے نہیں ہیں ۔ کاش یہ باتیں نیک ظنی سے دیکھی جاویں۔ کاش میں ان کی نظر میں کا ذب نہ ٹھہرتا تا دنیا ہلاکت سے بچ جاتی۔