مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 337
مجموعه اشتہارات ۳۳۷ جلد سوم بہتان کا مرتکب ہے۔ یہ الفاظ دراصل وہی تھے جن کا مصداق وہ خود اپنے آپ کو سراج الاخبار میں کنایتاً وصراحتاً ظاہر کر چکا تھا اور مان چکا تھا کہ میں نے دھوکا دیا۔ دغا دیا ۔ خلاف واقعہ خطوط لکھائے ۔ جعلی دستخط بنوائے اور جھوٹ کی تعلیم دی وغیرہ وغیرہ ۔ مناسب تھا کہ یہ شخص خاموش رہتا مگر اُس نے ایسا نہ کیا اور میرے پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش کر دی ۔ اگر مولوی کرم دین بجائے ان تہمتوں اور الزاموں کے جو اس نے اپنے مضمون ج الاخبار میں میرے پر لگائے اور خلاف واقعہ واقعات مجھ پر چسپاں کر کے مجھے جعلساز اور دھوکہ باز ٹھہرایا۔ میرے پر تلوار چلا کر کوئی عضو میرا کاٹ دیتا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے کہ میں پھر بھی اُسے معاف کر دیتا اور کسی کے کہنے کی مجھے حاجت نہ ہوتی کہ میں اس سے صلح کرلوں اور اس کا گناہ بخش دوں ۔ لیکن اے ناظرین جو لوگ مصلح مصلح : قوم بن کر خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں وہی ان مشکلات کو جانتے ہیں کہ ایسے بیجا الزام جو پبلک پر بُرا اثر ڈالنے والے ہیں وہ ان کے نزدیک تصفیہ کے لائق ہوتے ہیں اور جب تک وہ الزام ان کے سر پر سے پبلک کی نظر میں معدوم نہ ہو لیں تب تک وہ اس بات کو پسند نہیں کر سکتے کہ ایک گول مول مصالحت کر کے وہ داغ ہمیشہ کے لئے اپنے سر پر رکھیں یوسف جو ایک نبی تھا اس پر ایک جھوٹا الزام اقدام زنا لگا کر اس کو قید کیا گیا اور پھر مدت کے بعد معافی دی گئی تو اس نے اس معافی کو قبول نہ کیا حالانکہ نائب السلطنت کا عہدہ بھی ملتا تھا بلکہ صاف کہا کہ جب تک زنا کی تہمت سے میری بریت نہ ہوئیں زندان سے باہر قدم رکھنا نہیں چاہتا ۔ اسی طرح اگر ایک دنیا دار پر بھی ایک جھوٹا الزام دعا یا خیانت مجرمانہ کا لگایا جاوے تو گول مول مصالحت پر راضی نہیں ہوتا ۔ لیکن بعض خیر خواہان قوم نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین میں مصالحت ہو جاوے یہاں تک کہ اس ضلع اور قسمت کے بعض نیک دل اور دور اندیش اعلیٰ افسران اور حکام نے بھی اپنی رضا مندی اس پر ظاہر کی کہ میں اس مستغیث سے صلح کرلوں ۔ خود صاحب مجسٹریٹ نے جن کی عدالت میں یہ مقدمہ ہے اپنی شریفانہ عادت اور نیک نیتی سے صلح پر پسندیدگی ظاہر فرمائی ۔