مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 336
مجموعه اشتہارات ۳۳۶ جلد سوم یہ خطوط مجھے ایسے ایسے وقت ملے جبکہ میں کتاب نزول المسیح کتاب نزول المسیح لکھ رہا تھا سو وہ خطوط میں نے کتاب نزول مسیح میں درج کئے ۔ ایسا ہی ایڈیٹر الحکم اخبار نے بھی ان خطوط کی بنیاد پر ایک مضمون اپنے اخبار میں معه نقل خطوط درج کیا ۔ اخبار الحکم کے جواب میں ایک مضمون مولوی کرم دین کے نام سے سراج الاخبار جہلم مورخہ ۶ راکتو بر ۱۹۰۲ء اور ایک قصیدہ مولوی مذکور کی طرف سے سراج الاخبار مورخه ۱۳۰ راکتو بر ۱۹۰۲ء میں شائع کیا جس میں اس نے یہ ظاہر کیا کہ یہ خطوط جعلی اور جھوٹے ہیں۔ اس میں یہ بھی لکھا کہ مرزا غلام احمد یعنی راقم کی ملہمیت کی آزمائش کے لئے میں نے اسے دھوکا دیا اور خلاف واقعہ خطوط لکھے اور لکھائے اور ایک خام نویس طفل کے ہاتھ سے نوٹ لکھا کر ان کو محمد حسن فیضی کے نوٹ ظاہر کئے ۔ پھر اس دھو کے کے ذریعے چھ روپے بھی حاصل کئے ۔ اور راقم مضمون نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ سراج الاخبار کے ان مضامین میں میری نسبت سخت الزام لگائے اور یہ شائع کیا کہ گویا میں جو بحیثیت ایک مامور من اللہ اور مصلح ہونے کے ایک کام کر رہا ہوں ۔ یہ تمام کام میرا مکرو فریب ہے اور گویا میں اپنے دعوی میں کذاب اور مفتری ہوں ۔ پس چونکہ یہ تحریر اس کی میری ایک کثیر جماعت پر جو اب خدا تعالیٰ کے فضل سے دو لاکھ سے بھی زیادہ ہے بہت ہی بُرا اثر ڈالتی تھی اور پبلک کی نگاہ مجھے جعلساز اور فریبی اور قوم کو دھوکا دینے والا اور سخت بد چلن قرار دیتی تھی ۔ اور اس بے جا حملہ سے ہزاروں آدمیوں کی روحانیت کا خون ہوتا تھا اس لئے میں نے اس خطرناک حملہ کا دفعیہ ضروری سمجھا ۔ سو اگر چه شرعاً و قانونا اس وقت میرا حق تھا کہ میں اپنی بریت ثابت کرانے کے لئے ازالہ حیثیت عرفی کا مدعی ہو کر عدالت کی طرف رجوع کرتا لیکن میں نے صبر کیا اور منتظر رہا کہ مولوی کرم دین خود اس مضمون کی تردید کرے ۔ لیکن جب تین ماہ سے زیادہ گذر گئے اور اس نے کوئی تردید نہ کی تو میں نے اس تہمت کو اپنے پر سے دور کرنے کے لئے اس قدر کافی سمجھا کہ اپنی کتاب مواہب الرحمن میں جو کرم دین کے مضامین کے تین ماہ بعد شائع ہوئی اس قدر اشارہ کر دوں کہ یہ شخص جو مجھ پر الزام لگانے والا ہے اور میری اہانت کرتا ہے خود ہی کذاب اور کمینہ اور