مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 319

مجموعه اشتہارات ۳۱۹ جلد سوم خطوط شائع ہوئے جو اس نے اپنے باپ جان مرے ڈوئی کو اپنی نا جائز ولادت کے بارے میں لکھے تھے جب ملک میں اس کا عام چرچا ہونے لگا۔ تو خود ڈوئی نے ۲۵ رستمبر ۱۹۰۴ ء کو اعلان کیا کہ وہ چونکہ ڈوئی کا بیٹا نہیں اس لئے ڈوئی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ ہرگز استعمال نہ کیا جائے ۔ ( رسالہ انڈی پنڈنٹ ۱۹ را پریل ۱۹۰۶ ء بحوالہ الیگزنڈرڈوئی کا عبرتناک انجام صفحہ ۵۲ تا ۵۷ ) (۲) ایک موقع پر جبکہ اس نے اپنا اثر و رسوخ تمام امریکہ میں پھیلانے کے لئے نیو یارک میں متواتر دو ہفتے جلسے کرنے کا ارادہ کیا اور لاکھوں ڈالر کے خرچ سے اس کا انتظام کیا گیا ۔ ڈوئی ایک مسحور کن مقرر کی شہرت رکھتا تھا۔ لیکن نیو یارک میں جلسہ شروع کرتے وقت وہ کوئی مؤثر تقریر نہ کر سکا اور لوگ جلسہ سے باہر جانے شروع ہو گئے وہ بہت چلایا کہ بیٹھ جاؤ لیکن کسی نے نہ سنی اور جلسے سخت نا کام ہو گئے ۔ چنانچہ نیو یارک امریکن نے اپنی اشاعت ۱۹ راکتو بر ۱۹۰۳ء میں لکھا:۔ نیو یارک ایلیا کے لئے واٹر لو کا میدان بن گیا ۔“ (۳) یکم جنوری ۱۹۰۴ء کو ڈوئی دنیا کے سفر پر روانہ ہوا تاکہ آسٹریلیا اور یورپ میں کامیابی حاصل کرے ۔ مگر اس نے اپنی تقریروں میں بعض ایسی باتیں کہیں جن کی وجہ سے وہ آسٹریلیا میں نا کام ہو گیا اور انگلستان میں اس کو جگہ دینے سے انکار کر دیا گیا ۔ آخر اسے وہاں سے واپس آنا پڑا۔ واپسی پر اپنے ساتھ ایک خوبصورت لڑکی ہمراہ لایا ۔ جس پر لوگوں کو اعتراض ہوا۔ پہلے تو اس نے تعدد ازدواج کی خوبی بیان کر کے اپنے پر سے الزام ہٹانے کی کوشش کی ۔ مگر مرید اس کی طرف مائل نہ ہوئے ۔ تب اس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تا کہ اس دوشیزہ کے لئے راستہ صاف ہو جائے ۔ بیوی اور بیٹا طلاق کی وجہ سے اس سے الگ ہو گئے ۔ (۴) ستمبر ۱۹۰۵ء کی آخری اتوار کو ڈوئی نے صحون میں ایک غیر معمولی جلسہ کا انتظام کیا اس تقریب کے خاتمہ پر چند افتتاحی الفاظ کہنے کے لئے ڈوئی جب سامنے آیا تو عین اُس وقت اُس پر فالج گرا اور وہ گرنے ہی لگا تھا کہ اُس کے دو مرید اسے سہارا دے کر گھسیٹتے ہوئے اُسے ہال سے باہر لے گئے ۔ فالج کے اس شدید حملے کے ابھی اثرات چل ہی رہے تھے کہ ۱۹ / دسمبر ۱۹۰۵ ء کو اس پر دوبارہ فالج گرا۔ آخر مجبور ہو کر اسے صحیحون سے نکلنا پڑا اور علاج اور صحت کے لئے گرم علاقہ جزیرہ کی طرف چلا گیا۔