مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 311
مجموعه اشتہارات ۳۱۱ جلد سوم خدا میں تغیر کونسا لا زم آیا ۔ شرم ! شرم !! شرم !!! مگر افسوس کہ وید کی رُو سے خدا ان تغیرات کا مالک نہیں بن سکتا کیونکہ وید تو خدا کے فرشتوں کا منکر ہے۔ پس کیونکر دنیا کے ذرات اور روحوں کی قوتیں اس کی آواز سُن سکتی ہیں۔ علم طبعی اور ہیئت کا سلسلہ بھی خدا کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب طبعی طور پر ہر ایک ذرہ مخلوقات کا خدا کا فرشتہ مان لیا جائے ورنہ فرشتوں کے انکار سے دہر یہ بننا پڑے گا کہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے پر میشر کو اس کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ اس کی مرضی اور ارادہ سے ہو رہا ہے مثلاً کانوں میں سونا اور چاندی اور پیتل اور تانبا اور لوہا طیار ہوتا ہے اور بعض کانوں میں سے ہیرے نکلتے ہیں اور نیلم پیدا ہوتا ہے اور بعض جگہ یا قوت کی کانیں ہیں اور بعض دریاؤں میں سے موتی پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک جانور کے پیٹ سے بچہ یا انڈہ پیدا ہوتا ہے ۔ اب خدا نے تو قرآن شریف میں ہمیں یہ سکھلایا ہے کہ یہ طبعی سلسلہ خود بخود نہیں بلکہ ان چیزوں کے تمام ذرات خدا کی آواز سنتے ہیں اور اس کے فرشتے ہیں یعنی اس کی طرف سے ایک کام کے لئے مقرر شدہ ہیں ۔ پس وہ کام اس کی مرضی کے موافق وہ کرتے رہتے ہیں ۔ سونے کے ذرات سونا بناتے رہتے ہیں اور چاندی کے ذرات چاندی بناتے رہتے ہیں اور موتی کے ذرات موتی بناتے ہیں اور انسانی وجود کے ذرات ماؤں کے پیٹ میں انسانی بچہ طیار کرتے ہیں اور یہ ذرات خود بخود کچھ بھی کام نہیں کرتے بلکہ خدا کی آواز سنتے ہیں اور اس کی مرضی کے موافق کام کرتے ہیں اسی لئے وہ اس کے فرشتے کہلاتے ہیں اور کئی قسم کے فرشتے ہوتے ہیں یہ تو زمین کے فرشتے ہیں ۔ مگر آسمان کے فرشتے آسمان سے اپنا اثر ڈالتے ہیں جیسا کہ سورج کی گرمی بھی خدا کا ایک فرشتہ ہے جو پھلوں کا پکانا اور دوسرے کام کرتا ہے اور ہوائیں بھی خدا کے فرشتے ہیں جو بادلوں کو اکٹھے کرتے اور کھیتوں کو مختلف اثر اپنے پہنچاتے ہیں اور پھر ان کے اوپر اور بھی فرشتے ہیں جو ان میں تاثیر ڈالتے ہیں ۔ علوم طبعی اس بات کے گواہ ہیں کہ فرشتوں کا وجود ضروری ہے اور ان فرشتوں کو ہم چشم خود دیکھ رہے ہیں ۔ اب بقول آریہ صاحبان ویدان فرشتوں کا منکر ہے ۔ پس اس طور سے وہ اس طبعی سلسلہ سے انکاری اور دہر یہ مذہب کی بنیاد ڈالتا