مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 310

مجموعه اشتہارات ۳۱۰ جلد سوم سے ایمان رکھتے ہیں کہ وہ کبھی معطل نہیں رہا مگر اس کی تفصیل کو ہم نہیں جانتے ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اس نے کتنی مرتبہ اس دنیا کو بنایا اور کتنی مرتبہ ہلاک کیا یہ لمبا اور غیر متناہی علم خدا کو ہے کسی دفتر میں یہ سا نہیں سکتا ہاں عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صرف چند مدت سے خدا نے دنہ نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ پہلے کچھ نہ تھا اور قدیم سے وہ خالق نہیں ہے۔ سو یہ اعتراض ان پر کرو اور پھر آپ لوگوں کو شرم کرنا چاہیے کہ ہم تو مانتے ہیں کہ ہمارا خدا قدیم سے ذرّات اجسام پیدا کرتا رہا اور قدیم سے روحیں بھی پیدا کرتا رہا مگر آپ لوگ تو قطع نظر قدیم کے ایک مرتبہ کے لئے بھی خدائے تعالیٰ کی ان صفات کو نہیں مانتے پھر کیوں اپنے گھر سے بے خبر رہ کر اسلام پر محض افترا کے طور پر اعتراض کر دیتے ہیں ور نہ حیا اور شرم کر کے قرآن شریف سے ہمیں دکھلا دو کہ کہاں لکھا ہے کہ میں قدیم سے خالق نہیں ہوں مگر آپ کا پرمیشر تو بجز معمار یا نجار کی حیثیت سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتا اور کیونکر معلوم ہوا کہ وہ عالم الغیب ہے اس کا وید میں کیا ثبوت ہے ذرا ہوش سے جواب دو ۔ (۴) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ مسلمانوں کا خدا متغیر ہے کبھی کوئی حکم دیتا ہے کبھی کوئی۔ الجواب: خدا آپ لوگوں کو ہدایت دے۔ قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا متغیر ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ انسان متغیر ہے اس لئے اس کے مناسب حال خدا اس کے لئے تبدیلیاں کرتا ہے۔ جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو صرف اس کو خون کی غذا ملتی ہے اور جب پیدا ہوتا ہے تو ایک مدت تک صرف دودھ پیتا ہے اور پھر بعد اس کے اناج کھاتا ہے اور خدائے تعالیٰ تینوں سامان اس کے لئے وقتا فوقتا پیدا کر دیتا ہے۔ پیٹ میں ہونے کی حالت میں پیٹ کے فرشتوں کو جو اندرونی ذرات ہیں حکم کر دیتا ہے کہ اس کی غذا کے لئے خون بناویں اور پھر جب پیدا ہوتا ہے تو اس حکم کو منسوخ کر دیتا ہے تو پھر پستان کے فرشتوں کو جو اس کے ذرات ہیں حکم کرتا ہے جو اس کے لئے دودھ بناویں اور جب وہ دودھ سے پرورش پا چکتا ہے تو پھر اس حکم کو بھی منسوخ کر دیتا ہے تو پھر زمین کے فرشتوں کو جو اس کے ذرات ہیں حکم کرتا ہے جو اس کے لئے اخیر مدت تک اناج اور پانی پیدا کرتے رہیں۔ پس ہم مانتے ہیں کہ ایسے تغیر خدا کے احکام میں ہیں خواہ بذریعہ قانونِ قدرت اور خواہ بذریعہ شریعت ۔ مگر اس سے