مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 305
مجموعه اشتہارات ۳۰۵ جلد سوم کی رُو سے ان کا نام فرشتے بھی ہے اور وہ یہ ہیں ۔ اکاش جس کا نام اندر بھی ہے۔ سورج دیوتا جس کو عربی میں شمس کہتے ہیں۔ چاند جس کو عربی میں قمر کہتے ہیں ۔ دھرتی جس کو عربی میں ارض کہتے ہیں۔ یہ چاروں دیوتا جیسا کہ ہم اس رسالہ میں بیان کر چکے ہیں خدا کی چار صفتوں کو جو اس (بقیہ حاشیہ ) اب واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ میں ان چار صفتوں کو اپنی ربوبیت کا مظہر اتم قرار دیا ہے اور اسی لئے صرف اس قدر ذکر پر یہ نتیجہ مترتب کیا ہے کہ ایسا خدا کہ یہ چار صفتیں اپنے اندر رکھتا ہے وہی لائق پرستش ہے اور در حقیقت یہ صفتیں بہر وجہ کامل ہیں اور ایک دائرہ کے طور پر الوہیت کے تمام لوازم اور شرائط پر محیط ہیں کیونکہ ان صفتوں میں خدا کی ابتدائی صفات کا بھی ذکر ہے اور درمیانی زمانہ کی رحمانیت اور رحیمیت کا بھی ذکر ہے اور پھر آخری زمانہ کی صفت مجازات کا بھی ذکر ہے اور اصولی طور پر کوئی فعل اللہ تعالیٰ کا ان چار صفتوں سے باہر نہیں۔ پس یہ چار صفتیں خدا تعالیٰ کی پوری صورت دکھلاتی ہیں سو در حقیقت اِسْتَوَا عَلَى الْعَرْشِ کے یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفات جب دنیا کو پیدا کر کے ظہور میں آگئیں تو خدا تعالیٰ ان معنوں سے اپنے عرش پر پوری وضع استقامت سے بیٹھ گیا کہ کوئی صفت صفات لازمہ الوہیت سے باہر نہیں رہی اور تمام صفات کی پورے طور پر تجلی ہو گئی جیسا کہ جب اپنے تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے تو تخت نشینی کے وقت اس کی ساری شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ ایک طرف شاہی ضرورتوں کے لئے طرح طرح کے سامان طیار ہونے کا حکم ہوتا ہے اور وہ فی الفور ہو جاتے ہیں اور وہی حقیقت ربوبیت عامہ ہیں۔ دوسری طرف خسروانہ فیض سے بغیر کسی عمل کے حاضرین کو جود و سخاوت سے مالا مال کیا جاتا ہے۔ تیسری طرف جو لوگ خدمت کر رہے ہیں ان کو مناسب چیزوں سے اپنی خدمات کے انجام کے لئے مدد دی جاتی ہے۔ چوتھی طرف جزا سزا کا دروازہ کھولا جاتا ہے کسی کی گردن ماری جاتی ہے اور کوئی آزاد کیا جاتا ہے۔ یہ چار صفتیں تخت نشینی کے ہمیشہ لازم حال ہوتی ہیں ۔ پس خدا تعالیٰ کا ان ہر چہار صفتوں کو دنیا پر نافذ کرنا گویا تخت پر بیٹھنا ہے جس کا نام عرش ہے۔ اب رہی یہ بات کہ اس کے کیا معنے ہیں کہ اس تخت کو چار فرشتے اُٹھا رہے ہیں۔ پس اس کا یہی جواب ہے کہ ان چار صفتوں پر چار فرشتے موکل ہیں جو دنیا پر یہ صفات خدا تعالیٰ کی ظاہر کرتے ہیں اور ان کے ماتحت چار ستارے ہیں جو چار رب النوع کہلاتے ہیں جن کو وید میں دیوتا کے نام سے پکارا گیا ہے۔