مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 304
مجموعه اشتہارات ۳۰۴ جلد سوم اس کا جواب دیتا ہوں ۔ ہر ایک چیز کی کل میرے ہاتھ میں ہے اور میر اعلم سب پر محیط ہے۔ میں ہی ہوں جو زمین و آسمان کو اٹھا رہا ہوں ۔ میں ہی ہوں جو تمہیں خشکی تری میں اُٹھا رہا ہوں ۔ یہ تمام آیات قرآن شریف میں موجود ہیں ۔ بچہ بچہ مسلمانوں کا ان کو جانتا اور پڑھتا ہے۔ جس کا جی چاہے وہ ہم سے آکر ابھی پوچھ لے ۔ پھر ان آیات کو ظاہر نہ کرنا اور ایک استعارہ کو لے کر اس پر اعتراض کر دینا کیا یہی دیانت آریہ سماج کی ہے ایسا دنیا میں کون مسلمان ہے جو خدا کو محدود جانتا ہے یا اس کے وسیع اور غیر محدود علم سے منکر ہے ۔ اب یا د رکھو کہ قرآن شریف میں یہ تو کہیں بھی نہیں کہ خدا کو کوئی فرشتہ اُٹھا رہا ہے بلکہ جا بجا یہ لکھا ہے کہ خدا ہر ایک چیز کو اُٹھا رہا ہے ہاں بعض جگہ یہ استعارہ مذکور ہے کہ خدا کے عرش کو جو دراصل کوئی جسمانی اور مخلوق چیز نہیں فرشتے اٹھا رہے ہیں۔ دانشمند اس جگہ سے سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ عرش کوئی مجسم چیز ہی نہیں تو فرشتے کس چیز کو اٹھاتے ہیں ۔ ضرور کوئی یہ استعارہ ہو گا مگر آریہ صاحبوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کیونکہ انسان خود غرضی اور تعصب کے وقت اندھا ہو جاتا ہے ۔ اب اصل حقیقت سنو کہ قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔ اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر کے چار ہیں جو وید کے رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح لے حاشیہ۔ خدا تعالیٰ کی چار صفتیں ہیں جن سے ربوبیت کی پوری شوکت نظر آتی ہے۔ اور کامل طور پر چہرہ اس ذات ابدی از لی کا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے ان ہر چہار صفتوں کو سورۃ فاتحہ میں بیان کر کے اپنی ذات کو معبود قرار دینے کے لئے ان لفظوں سے لوگوں کو اقرار کرنے کی ہدایت دی ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی اے وہ خدا جو ان چار صفتوں سے موصوف ہے۔ ہم خاص تیری ہی پرستش کرتے ہیں کیونکہ تیری ربوبیت تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحمانیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری رحیمیت بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیری صفت مالکانہ جزا و سزا کی بھی تمام عالموں پر محیط ہے اور تیرے اس حسن اور احسان میں بھی کوئی شریک نہیں ۔ اس لئے ہم تیری عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں کرتے۔