مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 299
مجموعه اشتہارات ۲۹۹ جلد سوم خون ریزیوں کے نیچے چھپا دیا ہے اور چونکہ اس زمانہ میں خدا کے منشاء کے برخلاف یہ کارروائیاں ان سے ہوئیں اس لئے ان کو ایسے حملوں میں بجز نا کامی اور ذلت کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا اور ہمیشہ شکست اٹھاتے اور مارے جاتے ہیں۔ لیکن میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اب وہ اگر ایسا کریں گے تو وہ خدا سے لڑیں گے اور خدا ان سے لڑے گا کیونکہ اس کا منشاء یہی ہے کہ دنیا کو یہ معجزہ دکھاوے کہ نرمی سے اور صلح سے اور اخلاق کے کمال سے اور اعجازی نمونوں سے دلوں میں پاک تبدیلی پیدا کرے۔ پس جو شخص اس کے منشاء کے برخلاف دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے وہ اس کے معجزہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور اس کی حکمت کا دشمن ہے اس لئے کبھی اس کے لئے بہتری نہیں ہے اب کے بعد جو لوگ دین کے بہانہ سے تلوار اٹھائیں گے گو وہ اپنی جہالت یا فریب سے مہدی کہلا ویں یا ملا کے نام سے منسوب ہوں وہ بہت ذلیل ہوں گے کیونکہ خدا کے قدیم ارادہ کا انہوں نے مقابلہ کیا ہے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس حقیقت کو کئی لاکھ انسانوں نے سمجھ لیا ہے اور کروڑہا انسان اس کے سمجھنے کے لئے مستعد ہو رہے ہیں اگر گورنمنٹ عالیہ مجھے اس قدر مد دے کہ میری اس تقریر کو اپنے طور پر اخباروں میں شائع کر دے اور اس میں لکھ دے کہ جو علماء اور عقلاء اور فتوی دینے والے جہاد کے مخالف ہیں اور وہ کتاب مخالفت جہاد پر دستخط کرنے کو طیار ہیں وہ ایک خاص عہدہ دار کے پاس جس کو گورنمنٹ مقرر کرے اپنے عرائض اخیر جون ۱۹۰۳ ء تک یا اس مدت تک جو گورنمنٹ مناسب سمجھے بھیج دیں اور ان کے منتخب عالم جہاد کی مخالفت کے بارے میں اپنی اپنی جگہ ایک ایک کتاب لکھیں ۔ جن میں سے ایک یہ راقم بھی ہوگا پھر مناسب ہے کہ ان تمام کتابوں میں سے جس کتاب کو گورنمنٹ پسند کرے اور پر زور دیکھے اس پر سب علماء کے دستخط ہو جائیں اور پھر وہ فارسی اور پشتو اور عربی میں ترجمہ ہو کر بلاد اسلامیہ میں شائع کی جائے اور گورنمنٹ خسروانہ مہربانی کر کے ایسی کتابوں کی تالیف کے لئے بذریعہ اپنے اشتہار کے اطلاع دے اور مناسب ہوگا کہ تالیف کتاب کے لئے ایک برس مہلت رکھی جائے تا تکمیل کتاب میں کوئی دقیقہ رہ نہ جائے ۔ یادر ہے کہ وحشی قوموں کو مہذب بنانے کے لئے جو ملاؤں کے پنجہ میں ہیں اس سے زیادہ کوئی موزوں تدبیر نہیں ہوگی جو علماء کے فتنہ کا علاج علماء کے ساتھ ہی