مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 298
مجموعه اشتہارات ۲۹۸ جلد سوم میں خدا نے صاف فرمایا کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ لے یعنی دین میں جبر نہیں ہے سو چونکہ یہ اعتراض دلوں میں جم گیا تھا اور جاہل اور وحشی مسلمانوں نے بھی اپنے بدنمونوں سے اس اعتراض کو قوت دی تھی اور دینداری کا شعار غازی کہلا نا سمجھا گیا تھا اور دین کے لئے تلوار اٹھانا گویا بہشت کی کنجیاں ٹھہر گئیں تھیں ۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودھویں صدی میں اسلام پر بھی وہ زمانہ آگیا کہ خدا اس غلطی کو اسلام میں سے نکال دے اسی طرح جیسا کہ موسی" سے چودہ سو برس بعد عیسی مسیح کو خدا نے بھیج کر یہودیوں کی غلطی کو نکال دیا۔ سو اصل بات تو صرف اس قدر تھی ۔ جس کو بعض نادانوں نے کچھ کا کچھ بنا دیا۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ اسلام کے عقلمند اور پاک دل لوگ اس حقیقت کو جلد تر سمجھ جائیں گے۔ میں صرف قیاسی طور پر نہیں کہتا بلکہ وہ نیک دل انسان جو ڈیڑھ لاکھ کے قریب میری اس ہدایت کو قبول کر چکے ہیں وہ ایک زندہ گواہ میرے اس خیال کے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ہر روز اسلام میں سے غلط عقیدے اُٹھتے جاتے اور ان کے بدلے یہ پاک سلسلہ قائم ہوتا جاتا ہے۔ میرے اس سلسلہ میں اگر چہ ایسے لوگ بھی بکثرت ہیں جو انگریزی خواں اور تعلیم یافتہ اور سرکاری عہدوں پر مقرر ہیں مگر ایک گروہ کثیر ان میں علماء کا بھی ہے مجھے ان کے ساتھ ان مسائل کے سمجھانے میں کوئی دقت اُٹھانی نہیں پڑی۔ بلکہ وہ ایسی آسانی سے سمجھ گئے گویا کہ وہ پہلے سے ہی طیار تھے سو میں اس سے قیاس کرتا ہوں کہ اس پاک عقیدے کے لئے قریباً کل دانشمند طیار ہیں اور عقلمند لوگ جہادی مسائل سے اندر ہی اندر بیزار ہو رہے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ در حقیقت قدیم سے خدا کا منشاء یہی ہے کہ وہ اپنے ضعیف بندوں کو نرمی اور رحم سے سمجھاوے۔ اور در حقیقت سچ یہی ہے کہ تلوار میں محض زمین کو فتح کرتی ہیں مگر اخلاقی تعلیم جو صرف زبانی باتیں نہ ہوں بلکہ عملی طور پر دکھائی جائے وہ دلوں پر فتح یاب ہوتی ہے۔ ان لوگوں نے خدا کا بڑا گناہ کیا ہے جنہوں نے قرآن کی اخلاقی تعلیم کو جو افراط تفریط سے پاک اور دنیا کی ہر ایک تعلیم سے اعلیٰ تھی اپنی وحشیانہ جنگوں اور ظالمانہ ا البقرة : ۲۵۷