مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 290
مجموعه اشتہارات ۲۹۰ جلد سوم به مذہب میں بھی قابل تعظیم ہے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام جمعہ کے روز ہی صلیب دیئے گئے تھے اور عیسائی کے عقیدہ کی رو سے تمام برکات کی جڑ یہی واقعہ ہے۔ یہودیوں کا سبت بھی اس زمانہ تک کہ جب وہ مصر سے نہیں نکلے تھے جمعہ ہی تھا قدیم مصری سلطنت میں بھی جمعہ کی ہی تعطیل ہوتی تھی اور حضرت آدم بھی جمعہ کے دن ہی پیدا ہوئے تھے نوح کی کشتی اراراٹ کے پہاڑ پر جمعہ کے دن ہی لگی تھی ۔ پس اس تعطیل سے یہ تمام یادگاریں قائم ہو سکتی ہیں اور مسلمان اس بات پر راضی ہیں کہ ان کی بعض غیر ضروری تعطیلیں بند کر کے ان کی جگہ جمعہ کی تعطیل دی جائے اور مجھے اس بات کا خیال ہے کہ جمعہ کی تعطیل رعایا اور گورنمنٹ میں ایک حقیقی مصالحت کی بنیاد ڈالے گی اور خیالات پر ایک ایسا اثر ہو گا کہ وہ فوق العادت تصور کیا جائے گا اگر چہ گورنمنٹ بہت دانشمند ہے لیکن عام مسلمانوں کے حالات سے ذاتی واقفیت مجھے اس بات کے اظہار کے لئے مجبور کرتی ہے کہ اس موقعہ پر مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی طریق نہیں اس لئے ایک بڑی جماعت کی تحریک سے یہ میموریل ارسال حضور کیا جاتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ توجہ سے اس پر غور کی جائے خاص کر میرے لئے جو ہمیشہ اس سعی میں ہوں کہ مسلمان لوگ گورنمنٹ کے ساتھ سچے اخلاص میں ترقی کریں ۔ اس تعطیل سے ایک دستاویز ملتی ہے اور گورنمنٹ کی عنایات ثابت کرنے کے لئے اور نئے دلائل حاصل ہوتے ہیں اس لئے میں اس عرض کے لئے جرات کرتا ہوں کہ اس عرضداشت پر ضرور توجہ فرمائی جائے اور اس کو ایک معمولی عرضی سمجھ کر ٹال نہ دیا جائے اور نہ یہ تصور کیا جائے کہ صرف ایک شخص کی یہ درخواست ہے کیونکہ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں یہ ایک شخص کی درخواست نہیں بلکہ ایک لاکھ معزز مسلمان کی درخواست ہے۔ اور چونکہ وہ لوگ مجھ سے بیعت اور مریدی کا تعلق رکھتے ہیں اس لئے ضروری نہیں سمجھا گیا کہ ان کے نام لکھے جائیں اور میں ان سب کی طرف سے بطور ایڈووکیٹ ہو کر امید بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ عرضداشت روانہ کرتا ہوں اور دعا پر ختم کرتا ہوں ۔ ( منقول از ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر انمبر ۱۲ صفحه ۴۹۵ تا ۴۹۸)