مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 285
مجموعه اشتہارات ۲۸۵ ۲۵۷ جلد سوم اصلاح حسب منشا کھلی چٹھی مولوی ثناء اللہ صاحب چونکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ کفن وغیرہ کی آمدنی جو اس ملک میں اکثر ملاؤں کو ہوا کرتی ہے کبھی ان کو اس سے تعلق نہیں ہوا۔ اور وہ اپنی تجارت سے گزارہ کرتے ہیں اس لئے ہمیں ان کی ان ذاتیات سے بحث نہیں اور ہم قبول کرتے ہیں کہ ایسا ہی ہوگا۔ یہ قول محض اس بناء پر تھا کہ ہمارے ملک میں اکثر ملا ایسے پائے جاتے ہیں کہ مسجدوں سے تعلق رکھتے اور پیشہ نسل اموات و جنازہ رکھتے ہیں اور اس کی آمدنی لیتے ہیں ۔ اب جبکہ وہ ظاہر کرتے ہیں کہ میں ان میں سے نہیں ہوں سو ہم اپنی اس قدر تحریر کے اس اشتہار سے اصلاح کر دیتے ہیں اور در حقیقت ہماری غرض اوّل سے الزام نہیں ہے کیونکہ صدہا ملا اس ملک میں ایسے پائے جاتے ہیں کہ یہ خدمت غسل اموات و جنازہ اپنے ذمہ لے لیتے ہیں ان کو بھی ہم بُرا نہیں کہتے کہ قدیم سے یہ کام چلا آتا ہے کوئی ان کو بُرا نہیں کہہ سکتا وہ سب اپنی اپنی جگہ پر عزت رکھتے ہیں ۔ المشتهر مرزا غلام احمد از قادیان ۲۰ دسمبر ۱۹۰۲ء یه اشتها را حکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء کے صفحہ ۶ پر درج ہے )