مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 282
مجموعه اشتہارات ۲۸۲ جلد سوم مولوی ثناء اللہ صاحب کے ان اعتراضات کا جواب ہے جو اُنہوں نے پیش کئے تھے۔ اس صورت میں کون شک کر سکتا ہے کہ وہ اُردو عبارت پہلے سے بنا رکھی تھی ۔ پس میرا حق ہے کہ جس قدر خارق عادت وقت میں یہ اُردو عبارت اور قصیدہ تیار ہو گئے ہیں میں اُسی وقت تک نظیر پیش کرنے کا ان لوگوں سے مطالبہ کروں کہ جو ان تحریرات کو انسان کا افترا خیال کرتے ہیں اور معجزہ قرار نہیں دیتے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ اتنی مدت تک جو میں نے اردو مضمون اور قصیدہ پر خرچ کی ہے اسی قدر مضمون اُردو جس میں میری ہر ایک بات کا جواب ہو کوئی بات رہ نہ جائے اور اسی قدر قصیدہ جو اسی تعداد کے اشعار میں واقعات کے بیان پر مشتمل ہوا اور فصیح و بلیغ ہو اسی مدت مقررہ میں چھاپ کر شائع کر دیں تو میں ان کو دس ہزار روپیہ نقد دوں گا۔ میری طرف سے یہ اقرار صحیح شرعی ہے جس میں ہرگز تخلف نہیں ہوگا اور جس کا وہ بذریعہ عدالت بھی ایفاء کر سکتے ہیں اور اگر اب مولوی ثناء اللہ اور دوسرے میرے مخالف پہلو تہی کریں اور بدستور مجھے کافر اور دجال کہتے رہیں تو یہ ان کا حق نہیں ہوگا کہ مغلوب اور لاجواب ہو کر ایسی چالا کی ظاہر کریں اور وہ پبلک کے نزدیک جھوٹے ٹھہریں گے اور پھر میں یہ بھی اجازت دیتا ہوں کہ وہ سب مل کر اُردو مضمون کا جواب اور قصیدہ مشتملہ بر واقعات لکھ دیں میں کچھ عذر نہیں کروں گا۔ اگر انہوں نے قصیدہ اور جواب مضمون ملحقہ قصیدہ میعاد مقررہ میں چھاپ کر شائع کر دیا تو میں بیشک جھوٹا ٹھہروں گا ۔ مگر چاہیے کہ میرے قصیدہ کی طرح ہر یک بیت کے نیچے اُردو ترجمہ لکھیں اور منجملہ شرائط کے اس کو بھی ایک شرط سمجھ لیں اس مقابلہ سے تمام جھگڑے کا فیصلہ ہو جائے گا اور انشاء اللہ ۱۶ نومبر ۲ء کی صبح کو میں یہ رسالہ اعجاز احمدی مولوی ثناء اللہ کے پاس بھیج دوں گا جو مولوی سید محمد سرور صاحب لے کر جائیں گے اور اسی تاریخ یہ رسالہ ان تمام صاحبوں کی خدمت میں جو اس قصیدہ میں مخاطب ہیں بذریعہ رجسٹری روانہ کر دوں گا ۔ بالآخر میں اس بات پر بھی راضی ہو گیا ہوں کہ ان تمام مخالفوں کو جواب مذکورہ بالا کے لکھنے اور شائع کرنے کے لئے پندرہ روز کی مہلت دوں کیونکہ اگر وہ زیادہ سے زیادہ بحث کریں تو انہیں اس صورت میں کہ ۱۸ یا ۱۹ نومبر ۲ء تک میرا قصیدہ اُن کے پاس پہنچ جائے گا۔ بہر حال