مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 264

مجموعه اشتہارات ۲۶۴ جلد سوم حاشیه نمبر ۲ رات کو عین خسوف قمر کے وقت میں چراغ دین کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا۔ اِنِّي أُذِيبُ مَنْ يُرِيبُ ۔ میں فنا کر دوں گا۔ میں غارت کروں گا۔ میں غضب نازل کروں گا اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے تو بہ نہ کی ۔ اور خدا کے انصار جو سالہائے دراز سے خدمت اور نصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں ان سے عفو تقصیر نہ کرائی کیونکہ اس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو ان سب پر مقدم کر لیا۔ حالانکہ خدا نے بار بار براہین احمدیہ میں اُن کی تعریف کی اور اُن کو سابقین قرار دیا اور کہا۔ اَصْحَابُ الصُّفَةِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَّةِ اور جبیز اس روٹی خشک کو کہتے ہیں کہ دانت اس کو توڑ نہ سکیں۔ اور وہ دانت کو توڑے اور حلق سے مشکل سے اترے اور امعاء کو پھاڑے اور قولنج پیدا کرے۔ پس اس لفظ سے بتلایا کہ چراغ دین کی یہ رسالت اور یہ الہام محض جبیز اور اس کے لئے مہلک ہیں ۔ مگر دوسرے اصحاب جن کی توہین کرتا ہے اُن پر مائدہ نازل ہو رہا ہے اور اُن کو خدا کی رحمت سے بڑا حصہ ہے۔ L ا۔ مائدہ چیزیست دیگر خشک نان چیزی دگر خوردنی هرگز نباشد نان خشک اے بے ہنر ۲۔ دوستان را مانده بدهند از مهر و کرم پارہ ہائے خشک نان بیگانگان را نیز هم ۳۔ نیز ہم پیش سگاں آں خشک نان می افکنند مائده از لطف ہا پیش عزیزاں مے برند ۴۔ ترک کن این خشک نان را هوش کن فرزانه باش گر خردمندی پئے آں مائدہ دیوانہ باش لد (مندرجہ رسالہ دافع البلاء مطبوعه ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۹ تا ۲۴ - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۹ تا ۲۴۴) منه لے ترجمہ اشعار ۔ (۱) خوان نعمت اور چیز ہے خشک روٹی اور چیز ہے۔ اے بے سمجھ سوکھی روٹی کھانے کے قابل نہیں ہوتی ۔ (۲) دوستوں کو فضل و کرم سے عمدہ نعمتیں ملتی ہیں۔ لیکن غیروں کو سوکھی روٹی کے ٹکڑے ہی ملتے ہیں ۔ (۳) اس خشک روٹی کو کتوں کے آگے بھی ڈال دیتے ہیں اور خوان نعمت کو لطف کے ساتھ عزیزوں کے سامنے لے جاتے ہیں ۔ (۴) تو اس سوکھی روٹی کو چھوڑ ہوش کر عقل کر ۔ اگر عقل مند ہے تو خوان کا طلب گار بن ۔