مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 263
مجموعه اشتہارات ۲۶۳ جلد سوم لوگ ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے اور نہ نفع پہنچا سکتے ہیں۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے انسان سے قطعا پر ہیز کریں۔ اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی اس لئے اجازت طبع دی تھی ۔ اب ایسی تحریروں کو چاک کرنا چاہیے۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المش خاکسار میرزا غلام احمد از قادیاں تعداد اشاعت ۵۰۰۰ ۲۳ را پریل ۱۹۰۲ء مطبع ضیاء الاسلام قادیان (مندرجہ رسالہ دافع البلاء ) حاشيه نمبرا 28 چراغ دین کی نسبت میں یہ مضمون لکھ رہا تھا کہ تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھ کو خدائے عز و جل کی طرف سے یہ الہام ہوا ۔ ہوا ۔ نَزَلَ بِهِ جَبِيز" یعنی اس پر جہیز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یار و یا سمجھ لیا۔ جہیز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اتر سکے اور مرد بخیل اور لئیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی اور فرومایگی اور بخل کا حصہ زیادہ ہو۔ اور اس جگہ لفظ جبیز سے مراد وہ حدیث النفس اور اضغاث الاحلام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اور بخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القاء شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج تو بہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلی ۔ ہے۔ ورنہ جہیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔ منہ