مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 196
مجموعه اشتہارات ۱۹۶ جلد سوم كان عيسى علما لساعة اليهود۔ هذا ما اشير اليه في الفاتحة۔ وما كان حديث يفترى۔ وقد شهدت السماء بأياتها وقالت الارض الوقت هذا الوقت فاتق الله ولا تيئس من روح الله والسلام على من اتبع الهدى۔ L فحاصل الكلام ان القرآن مملو من ان الله تعالى اختار موسى بعد ما اهلک القرون الاولى واتاه التوراة وارسل لتائيده النبيين تترا۔ ثم قفا على اثارهم بعيسى۔ واختار محمدا صلى الله عليه وسلم بعد ما اهلك اليهود واردى۔ لا شك ولاريب ان السلسلة الموسوية والمحمدية قد تقابلتا بقیہ ترجمہ کے لئے آخری گھڑی کے علم کے طور پر ہے جیسا کہ حضرت عیسی" یہود کی آخری گھڑی کے لئے بطور علم تھے ۔ یہ وہ بات ہے جس کی طرف سورہ فاتحہ میں بھی اشارہ کیا گیا ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو افتراء کی گئی ہو بلکہ اس پر آسمان نے اپنے نشانات کے ذریعہ شہادت دی ہے اور زمین نے کہا کہ وقت یہی ہے ۔ پس اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اور اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ حاصل کلام یہ کہ قرآن کریم اس بات سے؟ اس بات سے بھرا پڑا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السّلام کو برگزیدہ فرمایا اور انہیں تو رات دی اور پھر ان کی تائید کے لئے متواتر نبی بھیجے پھر ان انبیاء کے نقش قدم پر عیسی کو مبعوث فرمایا۔ اور یہود کو تباہ اور ہلاک کرنے کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برگزیدہ بنایا۔ اور بلا شک اور بلا ریب سلسلہ موسویہ اور سلسہ محمد یہ دونوں متقابل الحاشية۔ اعترض علي جاهل من بلدة اسمها جهل يا ذوى الحصات۔ وفي آخرها حرف الميم ليدل على مسخ القلب والممات۔ وفرح فرحا شديدًا باعتراضه وشتمنی و ذکرنی بأقبح الكلمات۔ وقال ان هذا الرجل يزعم ان عيسى كان من متبعى موسى وليس ترجمہ حاشیہ۔ مجھ پر ایک جاہل نے ( جو اس شہر کا باشندہ ہے جس کا نام اے عقل مند و ! جہل ہے۔ اور اس کے آخر میں میم کا حرف ہے جو قلوب کے مسیح ہونے اور موت پر دلالت کرتا ہے ۔ ) اعتراض کیا اور وہ اپنے اعتراض کی وجہ سے بہت خوش ہوا۔ اور اس نے مجھے گالیاں دیں ۔ اور مجھے بُرے