مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 193
مجموعه اشتہارات ۱۹۳ جلد سوم الهنديين ينتظرون كمثل هذه الفرق شيخهم سيد احمد البريلوى وانفدوا اعمارهم في فلوات منتـظـريـن فهؤلاء كلهم محل رحم بمالم يرجع احد من كبراء هم الى هذا الحين۔ بل رجع المنتظرون اليهم وكم حسرات في قلوب المقبورين۔ فملخص القول ان عقيدة رجوع المسيح وحياته كانت من نسج النصارى ومفترياتهم۔ ليطمئنوا بالاماني ويذبوا اليهود وهمزاتهم۔ واما المسلمون فدخلوها من غير ضرورة۔ و أخذوا من غير شبكة۔ واكلوا السم من غير حلاوة۔ واذا قبلوا ركنا من ركنى الملة النصرانية۔ فمامعنى الانكار من الركن الثاني اعنى الكفارة۔ وانا فصلنا هذه الامور كلها في الكتاب۔ وكفاك هذا ان كنت من الطلاب۔ ان الذين ظنوا من المسلمين ان عيسى نازل من السماء ما اتبعوا الحق بل هم فى وادى الضلال يتيهون۔ ما لهم بذالك من بقیہ ترجمہ ۔ فرقوں کی طرح اپنے بزرگ حضرت سید احمد صاحب بریلوی کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان کا انتظار کرتے کرتے جنگلوں میں اپنی زندگیاں گزار دی ہیں ۔ یہ سب لوگ اس لحاظ سے قابل رحم ہیں کیونکہ اس وقت تک ان کے بزرگوں میں سے کوئی بھی واپس نہیں آیا بلکہ انتظار کرنے والے ان بزرگوں کی طرف لوٹ گئے اور ان دفن شدہ لوگوں کے دلوں میں کتنی ہی حسرتیں ہیں ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ رجوع عیسی اور ان کی زندگی کا عقیدہ عیسائیوں کی اختراع اور ان کا افتراء ہے تا وہ اپنے نفس کو خواہشات کے ذریعہ اطمینان دلائیں۔ اور یہود کے ان اعتراضات کا رڈ کریں۔ مسلمان تو بغیر کسی ضرورت کے ان وساوس میں پڑ گئے ۔ اور وہ بغیر کسی جال کے پکڑے گئے اور انہوں نے بغیر کسی مٹھاس کے زہر کو کھایا ہے اور جب انہوں نے ملتِ نصرانیہ کے دوارکان میں سے ایک رکن کو قبول کر لیا ہے تو دوسرے رکن یعنی کفارہ سے انکار کی کیا وجہ ہے۔ اور ہم نے ان تمام امور کو اپنی کتاب میں تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ اور اگر تو حق کا متلاشی ہے تو تجھے اس قدر بیان کافی ہے۔ مسلمانوں میں سے جنہوں نے یہ گمان کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے انہوں نے حق کی پیروی نہیں کی بلکہ وہ گمراہی کی وادی میں بھٹک رہے ہیں۔ انہیں اس کے