مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 191

مجموعه اشتہارات ۱۹۱ جلد سوم بني اسرائيل۔ فمعناه انه ينجيه بدمه من الذنوب لا من جور الحكومة الرومية كما ظن وقيل۔ فحاصل الكلام ان النصارى لما اذاهم طول مكثهم في المصائب۔ واطال اليهود السنهم في امرهم وحسبوهم كالخاسر الخايب ۔ شق عليهم هذا الاستهزاء۔ فنحتوا العقيدتين المذكورتين ليسكت الاعداء۔ وانّ من عادات الانسان۔ انه يتشبّث باماني عند هبوب رياح الحرمان۔ واذا رأى انه مابقى له مقام رجاء۔ فيسر نفسه بأهواء۔ فيطلب ما ندّ عن الاذهان۔ وشدّ عن الأذان ۔ فقد يطلب الكيمياء عند نفاد الاموال۔ وقـد يـتـوجـه الـى تسخير النجوم والاعمال۔ وكذالك النصارى اذا وقع عليهـم قـول الاعداء۔ ومـا كـان مـفـر مـن هـذا البلاء۔ فنحتوا مانحتوا واتكئوا على بقیہ ترجمہ ۔ دلاؤں گا جو بنی اسرائیل پر نازل ہوئیں اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ان کو اپنے خون کے ساتھ گناہوں سے نجات دلائے گا نہ کہ رومی حکومت کے ظلم سے جیسا کہ خیال کیا جاتا اور کہا جاتا ہے ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جب نصاری کو مصائب میں ایک لمبے عرصہ تک پڑے رہنے سے دکھ پہنچا۔ اور یہودیوں نے ان کے بارہ میں زبانیں دراز کیں ۔ اور انہیں خائب و خاسر انسان کی مانند خیال کیا ۔ تو تو اُن پر یہ استہزاء شاق گزرا ۔ تب انہوں نے مذکورہ دونوں عقیدے گھڑ لئے تا دشمن خاموش ہو جائیں ۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اس پر محرومی کی اندھیریاں چلنے لگتی ہیں ۔ تو وہ اپنے لئے آرزوؤں کا سہارا لیتا ہے اور جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے لئے امید کا کوئی مقام باقی نہیں رہا تو وہ اپنے نفس کو خواہشات کے ساتھ خوش رکھتا ہے ۔ اور ایسی ایسی باتیں تلاش کرتا ہے جو ذہن سے نکل گئی ہوں اور کانوں سے جدا ہو گئی ہوں ۔ پس کبھی تو وہ اموال ختم ہو جانے کے بعد کیمیاء کی تلاش میں لگ جاتا ہے اور کبھی نجوم اور اعمال کے مسخر کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح جب نصاری پر دشمنوں کی طعن آمیز باتوں کی زد پڑی ۔ اور انہیں اس سے کوئی جائے فرار نہ ملی تب انہوں نے وہ گھڑا جو گھڑا ۔ اور اپنے لئے آرزوؤں کا سہارا لیا