مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 124
مجموعه اشتہارات ۱۲۴ جلد سوم چالیس آیت سے زیادہ نہ ہو) لے کر فریقین یعنی یہ صاحب ٹونکی پروفیسر لاہوری) کے عاجز اور مہر علی شاہ صاحب اوّل یہ دُعا کریں کہ یا الہی قبول کرنے میں کچھ عذر نہ ہو گا بعد ظہور ہم دونوں میں سے جو شخص تیرے نزدیک راستی پر اس کے کہ مرزا صاحب اپنے دعوئی کو ہے اُس کو تو اس جلسہ میں اس سورۃ کے حقائق اور بپایہ ثبوت نہیں پہنچا سکے ۔ مرزا صا معارف فصیح اور بلیغ عربی میں عین اسی جلسہ میں لکھنے کو بیعت تو بہ کرنی ہوگی ۔ بعد اس کے کے لئے اپنی طرف سے ایک روحانی قوت عطا فرما صاحب عقائد معدوده مرزا صاحب میں جن اور روح القدس سے اس کی مدد کرے اور جو شخص ہم میں جناب ساری امت مرحومہ سے دونوں فریق میں سے تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اُس سے یہ توفیق منفرد ہیں ۔ بحث تقلیدی اور اظہار - ے گا۔ یہ وہ رائے ہو کر مرزا صاحب کو اجازت چھین لے اور اس کی زبان فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے تا لوگ معلوم کر لیں مقابلہ تحریری کی دی جاوے گی۔ کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور تیری شرط ہے کہ دعوے جناب اور تحقیق حق روح القدس کی تائید سے محروم ہے۔ پھر اس دُعا کے لئے عند العقلا مقتضى بالطبع ہے۔ کے بعد فریقین عربی زبان میں اس تفسیر کو لکھنا ظاہر ہے کہ تیز نویسی اور قافیہ نجی کو بعد شروع کریں اور یہ ضروری شرط ہو گی کہ کسی فریق بطلان مضامین کے کچھ بھی وقعت اور لے پیر مہر علی شاہ صاحب اپنی کتاب شمس الہدایہ کے صفحہ ۸۱ عظمت نہیں ۔ حقیقت مضامین کا محفوظ میں یہ لاف زنی کر چکے ہیں کہ قرآن شریف کی سمجھ ان کو رہنا عیاران صداقت کے لئے نہایت عطا کی گئی ہے۔ اگر وہ اپنی کتاب میں اپنی جہالت کا اقرار کرتے اور فقر کا بھی دم نہ مارتے تو اس دعوت کی کچھ مہتم بالشان ہے۔ اظہار حقیت بغیر اس ضرورت نہیں تھی۔ لیکن اب تو وہ ان دونوں کمالات کے طریق کے متصور ہی نہیں ۔ کیونکہ مرزا ه مدعی ہو چکے ہیں۔ ندارد کسے با تو نا گفته کار ولیکن چو گفتی دلیلش بیار صاحب کے حقائق و معارف قرآنیہ سے تو ان کی تصانیف بھری ہوئی ہیں اور یہ اس شرط سے کہ مولوی محمد حسین وغیرہ اس سے دعوت سے گریز کر جائیں جو ضمیمہ اشتہار ھذا میں درج وہی جناب کے دعوئی کو عدم حقیت