مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 104
مجموعه اشتہارات الد جلد سوم اور اس تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مہلت دی جائے گی اور زانو بزانو لکھنا ہو گا نہ کسی پردہ میں ۔ ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹہ کی مہلت ملے گی۔ مگر ایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میں اس تفسیر کو گواہوں کے رو برو ختم کرنا ہوگا۔ اور جب فریقین لکھ چکیں تو وہ دونوں تفسیر میں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہوگا ۔ سُنائی جائیں گی۔ اور اُن ہر سہ مولوی صاحبوں کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفاً یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونوں تفسیروں اور دونوں عربی عبارتوں میں سے کونسی تفسیر اور عبارت تائید روح القدس سے لکھی گئی ہے۔ اور ضروری ہوگا کہ ان تینوں عالموں میں سے کوئی نہ اس عاجز کے سلسلہ میں داخل ہو اور نہ مہر علی شاہ کا مرید ہو اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اس شہادت کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور مولوی عبد اللہ پروفیسر لاہوری کو یا تین اور مولوی منتخب کریں جو ان کے مرید اور پیرو نہ ہوں۔ مگر ضرور یہ ہوگا کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفا اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلیٰ درجہ اور تائید الٰہی سے ہے۔ لیکن یہ حلف اس حلف سے مشابہ ہونی چاہیے جس کا ذکر قرآن میں قذف محسنات کے باب میں ہے جس میں تین دفعہ قسم کھانا ضروری ہے۔ اور دونوں فریق پر یہ واجب اور لازم ہو گا کہ ایسی تفسیر جس کا ذکر کیا گیا ہے کسی حالت میں ہیں ورق سے کم نہ ہو۔ اور ورق سے مراد اس اوسط درجہ کی تقطیع اور قلم کا ورق ہوگا جس پر پنجاب اور ہندوستان کے صدہا قرآن شریف کے نسخے چھپے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب لے یہ اس شرط سے کہ مولوی محمد حسین وغیرہ اس دعوت سے گریز کر جائیں جو ضمیمہ اشتہار ہذا میں درج ہیں ۔ منه ☑ کافی ہوگا جو ہیں ورق کا اندازہ اس قرآن کے ساتھ کیا جائے جو حال میں مولوی نذیر احمد خاں صاحب دہلوی نے چھپوایا ہے۔ منہ