مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 103

مجموعه اشتہارات ۱۰۳ جلد سوم صادق اور کاذب کے پرکھنے کے لئے ایک جلسہ قرار دیا جائے اور اس طرح پر مجھ سے مباحثہ کریں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورۃ نکالیں اور اس میں چالیس آیت یا ساری صورت (اگر چالیس آیت سے زیادہ نہ ہو ) لے کر فریقین یعنی یہ عاجز اور مہر علی شاہ صاحب اول یہ دُعا کریں کہ یا الہی ہم دونوں میں سے جو شخص تیرے نزدیک راستی پر ہے اُس کو تو اس جلسہ میں اس سورۃ کے حقائق اور معارف فصیح اور بلیغ عربی میں عین اسی جلسہ میں لکھنے کے لئے اپنی طرف سے ایک روحانی قوت عطا فرما اور روح القدس سے اس کی مدد کر اور جو شخص ہم دونوں فریق میں سے تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اُس سے یہ توفیق چھین لے اور اس کی زبان کو فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے تا لوگ معلوم کر لیں کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور تیری روح القدس کی تائید سے محروم ہے ۔ پھر اس دُعا کے بعد فریقین عربی زبان میں اس تفسیر کو لکھنا شروع کریں۔ اور یہ ضروری شرط ہو گی کہ کسی فریق کے پاس کوئی کتاب موجود نہ ہو اور نہ کوئی مددگار اور ضروری ہوگا کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیر آواز سُنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے تا اس کی فصیح عبارت اور معارف کے سننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے۔ لے پیر مہر علی شاہ صاحب اپنی کتاب شمس الہدایہ کے صفحہ ۸۱ میں یہ لاف زنی کر چکے ہیں کہ قرآن شریف کی سمجھ ان کو عطا کی گئی ہے۔ اگر وہ اپنی کتاب میں اپنی جہالت کا اقرار کرتے اور فقر کا بھی دم نہ مارتے تو اس دعوت کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔ لیکن اب تو وہ اُن دونوں کمالات کے مدعی ہو چکے ہیں ۔ ندارد کسی با تو ناگفته کار و لیکن چو گفتی لیلش بیار ☆ منه یادر ہے کہ ہر یک نبی یا رسول یا محدث جو نشان اتمام حجت کے لئے پیش کرتا ہے وہی نشان خدا تعالیٰ کے نزدیک معیار صدق و کذب ہوتا ۔ رب ہوتا ہے اور منکرین کی اپنی درخواست کے نشان معیار نہیں ٹھہر سکتے ۔ گو ممکن ہے کہ کبھی شاذ و نادر کے طور پر ان میں سے بھی کوئی بات قبول کی جائے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ انہی نشانوں کے ساتھ حجت پوری کرتا ہے جو آپ بغرض تحدی پیش کرتا ہے۔ یہی سنت اللہ ہے۔ منہ ترجمہ شعر ۔ اگر تو نے کوئی بات نہیں کی تو کسی کو تجھ سے کوئی واسطہ نہیں لیکن اگر کہے تو اس کی دلیل لانی پڑے گی ۔