مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 526
مجموعه اشتہارات ۵۲۶ جلد دوم نقل فتوی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ۱۵ رماه شعبان المبارک ۱۳۱۶ ھ کو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے بوساطت اپنے مرید ڈاکٹر اسمعیل صاحب ملازم فوج ملک افریقہ کے ایک استفتاء عام موافق سنت علماء خلف وسلف جس میں کسی شخص کا نام نہیں تھا۔ آپ صاحبان کی خدمت میں بڑے ادب سے پیش کیا۔ اب اعادہ الفاظ استفتا کی کچھ ضرورت نہیں ۔ صرف اگر کوئی شخص انکار امام مہدی موعود کرے اور عقیدہ اپنا تحریری ایک مقام بطور دستاویز دے کر اطمینان دلاوے کہ جو جو احادیث اسلام میں بحق مہدی علیہ السلام لکھی گئی ہیں وہ سراسر جھوٹ اور لغو ہیں تو اس پر علماء کیا فتویٰ فرماتے ہیں ۔ سو علمائے نامدار پنجاب وہندوستان نے اپنی اپنی فہم سے ایسے عقیدے والے کو جس کا ذکر استفتاء میں موجود ہے کافر ، ضال ، خارج از اسلام وغیرہ اپنی اپنی مواہیر اور دستخط سے قرار دیا تھا۔ چنانچہ وہ استفتاء چھپ کر عام طور پر شائع ہو چکا یہاں تک کہ گورنمنٹ عالیہ تک بھی بھیجا گیا۔ اب ایک مولوی عبدالحق نام نے جس کی مہر یا دستخط اُس گفر نامہ پر ثبت ہیں۔ اپنے ہاتھوں کی تحریر پر سخت افسوس کھا کر بڑے حسرت اور غضب سے ایک اشتہار نکال کر مشتہر کیا ہے کہ فتوی دینے میں میں نے دھوکہ کھایا ہے یعنی وہ فتویٰ زید کے بارے میں ہم نے دیا ہے نہ عمرو کے حق میں نیز بے اختیار ہو کر اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے فتوی پیش کرنے والے اور کرانے والے پر بے جا