مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 524
مجموعه اشتہارات ۵۲۴ جلد دوم کے آنے سے منکر ہے۔ یہ رسالہ ۱۴ اکتوبر ۱۸۹۸ء کو وکٹوریہ پر لیس میں چھپا ہے۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے چہا تھا کہ ہمارے اشتہار مباہلہ مورخہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی الہامی پیشگوئی کے مطابق محمد حسین کو مشلی ذلت پہنچاوے جیسا کہ الہام جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَ تَرْهَقُهُمْ ذلة کا منشاء تھا۔ اس لئے محمد حسین نے پوشیدہ طور پر یہ انگریزی رسالہ شائع کر دیا اور مولویوں کو اس رسالہ کے مضمون سے بالکل خبر نہ دی ۔ مگر تا ہم خدا تعالیٰ کے انصاف اور غیرت نے وہ رسالہ ظاہر کر دیا۔ تب ہم نے فی الفور سمجھ لیا کہ ہماری پیشگوئی پورا کرنے کے کئے یہ سامان غیب سے ظہور میں آ رہا ہے ۔ تب اسی بنا پر استفتاء لکھا گیا اور مولوی نذیر حسین دہلوی سے لے کر تمام مشہور علماء نے اس پر مہریں اور دستخط کر دیئے۔ اور ایسے منکر کی نسبت کسی نے کافر اور کسی نے دجال اور کسی نے کذاب اور مفتری کے لفظ استعمال کئے اور عبد الجبار غزنوی اور عبد الحق غزنوی نے جو وحشیانہ جوش کی وجہ سے صدق اور دیانت سے کچھ بھی غرض نہیں رکھتے نہ صرف نرم الفاظ میں فتویٰ دیا بلکہ ایسے الفاظ استعمال کئے کہ ایسا شخص جو مہدی سے منکر ہو کافر اور جہنمی ہے۔ اور جب ان پر یہ بات کھلی کہ فتوی تو ابو سعید محمد حسین بٹالوی کی نسبت پوچھا گیا تھا تب مارے غم اور غصہ کے دیوانہ ہو گئے اور اشتہار کے ذریعہ سے یہ شور مچایا کہ ہمیں دھو کہ دیا گیا اور محمد حسین کا نام ظاہر نہ کیا۔ اس کے جواب میں ہماری طرف سے ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب نے اس مضمون کا اشتہار جاری کیا تھا کہ یہ شور اور جزع فزع سراسر بد دیانتی سے ہے۔ فتولی صورت مسئلہ اور کیفیت سوال پر دیا جاتا ہے۔ اس میں یہ ضرور نہیں کہ سائل م لکھا جائے یا اس شخص کا نام جس کی نسبت فتوٹی ہے۔ ہم منتظر تھے کہ ایسے صاف امر میں کوئی صاحب دیانت کی پابندی سے عبدالحق اور عبد الجبار غزنوی کے خائنانہ طریق سے مخالفت کر کے ہمارے اس بیان کی تصدیق کریں۔ سو ہمیں اس استفتاء کے دیکھنے سے بڑی خوشی ہوئی ہے جو آج ہمیں ملا ہے۔ جس میں مولوی عبد اللہ صاحب ٹونکی پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور اور مولوی کا نام لکھا۔