مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 470

مجموعه اشتہارات ۴۷۰ جلد دوم سے یہ نتیجہ نکلے کہ وہ اسلامی پیشگوئی کی عظمت سے ضرور ڈرتا رہا۔ غافل زندگی کے لوگ تو نجومیوں کی پیشگوئیوں سے بھی ڈر جاتے ہیں چہ جائیکہ ایسی پیشگوئی جو بڑے شد ومد سے کی گئی تھی جس کے سننے سے اسی وقت اس کا رنگ زرد ہو گیا تھا جس کے ساتھ در صورت نہ پورے ہونے کے میں نے اپنے سزایاب ہونے کا وعدہ کیا تھا۔ پس اس کا رُعب ایسے دلوں پر جو دینی سچائی سے بے بہرہ ہیں۔ کیونکر نہ ہوتا ۔ پھر جبکہ یہ بات صرف قیاسی نہ رہی بلکہ خود آتھم نے اپنے خوف اور سر اسمیگی اور دہشت زدہ ہونے کی حالت سے جس کو صد ہا لوگوں نے دیکھا اپنی اندرونی بے قراری اور اعتقادی حالت کے تغیر کو ظاہر کر دیا اور پھر معیاد قسم نہ کھانے اور نالش نہ کرنے سے اس تغیر کی حالت کو اور بھی یقین تک پہنچایا اور پھر الہام الہی کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر بھی گیا تو کیا یہ تمام واقعات ایک منصف اور خدا ترس کے دل کو اس یقین سے نہیں بھرتے کہ وہ پیشگوئی کی معیاد کے اندر الہامی شرط سے فائدہ اُٹھا کر زندہ رہا اور پھر الہام الہی کی خبر کے موافق اخفائے شہادت کی وجہ سے مر گیا۔ اب دیکھو تلاش کرو کہ آتھم کہاں ہے؟ کیا وہ زندہ ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ وہ کئی برس سے مر چکا مگر جس شخص کے ساتھ اس نے ڈاکٹر کلارک کی کوٹھی پر بمقام امرتسر مقابلہ کیا تھا وہ تو اب تک زندہ موجود ہے جواب یہ مضمون لکھ رہا ہے۔ اے حیا و شرم سے دور رہنے والو ! ذرہ اس بات کو تو سوچو کہ وہ شہادت کے اخفاء کے بعد کیوں جلد مر گیا ؟ میں نے تو اُس کی زندگی میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر میں کا ذب ہوں تو میں پہلے مروں گا ورنہ میں آتھم کی موت کو دیکھوں گا ۔ سو اگر شرم ہے تو آتھم کو ڈھونڈ کر لاؤ کہاں ہے۔ وہ میری عمر کے قریب قریب تھا اور عرصہ تین برس سے مجھ سے واقفیت رکھتا تھا۔ اگر خدا چاہتا تو وہ تمہیں برس تک اور زندہ رہ سکتا تھا ۔ پس یہ کیا باعث ہوا کہ وہ ا اعث ہوا کہ وہ انہیں دنوں میں جبکہ اس نے عیسائیوں کی دلجوئی کے لئے الہامی پیشگوئی کی سچائی اور اپنے دلی رجوع کو چھپایا خدا کے الہام کے موافق فوت ہو گیا ۔ خدا ان دلوں پر لعنت کرتا ہے جو سچائی کو پا کر پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور چونکہ یہ انکار جواکثر عیسائیوں اور بعض شریر مسلمانوں نے کیا خدا تعالیٰ کی نظر میں ظلم صریح تھا اس لئے اس نے ایک دوسری