مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 393
مجموعه اشتہارات ۳۹۳ جلد دوم مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو چھ فروری ۱۸۹۸ ء روز یکشنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ” یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔“ 66 میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد جاڑے میں پھیلے گا لیکن نہایت خوف ناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔ اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے کہ اِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ یعنی جب تک دلوں کی وباء معصیت دُور نہ ہو تب تک ظاہری و با بھی دور نہیں ہوگی ۔ اور در حقیقت دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بدکاری کثرت سے پھیل گئی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ہوا و ہوس کا ایک طو فال فان برپا ہو رہا ہے ۔ اکثر دلوں سے اللہ جل شانہ کا خوف اُٹھ گیا ہے اور وباؤں کو ایک معمولی تکلیف سمجھا گیا ہے جو انسانی تدبیروں سے دُور ہوسکتی ہے۔ ہر ایک قسم کے گناہ بڑی دلیری سے ہو رہے ہیں اور قوموں کا ہم ذکر نہیں کرتے وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اُن میں سے جو غریب اور مفلس ہیں اکثر ان میں سے چوری اور خیانت اور حرام خوری میں نہایت دلیر پائے جاتے ہیں ۔ جھوٹ بہت بولتے ہیں اور کئی قسم کے خسیس اور مکروہ حرکات اُن سے سزد ہوتے ہیں اور وحشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں ۔ نماز کا تو ذکر کیا کئی کئی دنوں تک منہ بھی نہیں دھوتے اور کپڑے بھی صاف نہیں کرتے اور جو لوگ امیر اور رئیس اور نواب یا بڑے بڑے تاجر اور زمیندار اور ٹھیکہ دار اور دولت مند ہیں وہ اکثر عیاشیوں میں مشغول ہیں اور شراب خوری اور زنا کاری اور بداخلاقی اور فضول خرچی اُن کی عادت ہے اور صرف نام کے مسلمان لے یہ فقره که إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةَ اب تک اس کے معنے میرے پر نہیں کھلے اور رویا عام و با پر دلالت کرتی ہے ۔ مگر بطور تقدیر معلق - منه