مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 277

مجموعه اشتہارات ۲۷۷ جلد دوم اور کسی کو قید اور کسی کو رہائی دیتا رہا اور اعلی افسر اس مکان پر گزرتے رہے مگر کسی نے اس کو نہ پکڑا نہ پوچھا بلکہ اس کا حکم ایسا ہی چلتا رہا جیسا کہ بچے کا ؟ سو یقیناً سمجھو! کہ یہ بات بالکل غیر ممکن ہے کہ ایک نبی کی اتنی بڑی عزتیں اور شوکتیں دنیا میں پھیل جائیں کہ کروڑہا مخلوق اُس کی امت ہو جائے ۔ بادشاہیاں قائم ہو جائیں اور صدہا برس گزر جائیں اور دراصل وہ نبی جھوٹا ہو۔ جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ایک بھی اس کی نظیر نہیں پاؤ گے ۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ دراصل کوئی نبی سچا ہو اور کتاب سچی ہو۔ پھر مرور زمانہ سے اس کتاب کی تعلیم بگڑ جائے ۔ اور لوگ غلط فہمی سے اس کے منشاء کے برخلاف عمل کرنا شروع کر دیں۔ چنانچہ یہ بات بالکل درست ہے کہ ہر بگڑا ہوا مذہب جو دنیا میں پھیل گیا تھا اور جس نے ایک عمر پائی وہ سچی جڑ اپنے اندر مخفی رکھتا ہے گو اس کی تمام صورت بدلائی گئی ۔ اسی لئے اسلام کسی عمر پانے والے اور جڑ پکڑنے والے مذہب کے پیشوا کو بدی سے یاد نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ غیر ممکن ہے کہ جو لوگ خدا کے حکم سے آتے اور اس کی کتاب لاتے ہیں اُن کے پہلو بہ پہلو عزت اور جلال میں وہ لوگ بھی ہوں جو نا پاک طبع اور خدا پر افترا کرنے والے ہیں ۔ نہ انسانی گورنمنٹ کی غیرت اس بات کو قبول کر سکتی ہے اور نہ خدا کی غیرت ۔ کہ جو لوگ جھوٹے طور پر اپنے تئیں عہدہ دار اور سرکاری ملازم ظاہر کرتے ہیں اُن کو ایسی عزت دی جائے جیسا کہ سچے کو اور ان کو اپنے مفتریا نہ کاموں میں ایسا ہی چھوڑا جائے جیسا کہ سچوں کو اپنی جائز حکومتوں میں ۔ اور وہ طریق جس کے رُو سے اس وقت آپ پر خدا کی حجت پوری کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ آپ کا دعوی ہے کہ باوانا تک صاحب مسلمان نہیں تھے اور میں کہتا ہوں کہ در حقیقت وہ مسلمان تھے کے اور جیسا کہ بالا کی جنم ساکھی میں لکھا ہے۔ در حقیقت چولا جو اب ڈیرہ ناٹک میں موجود ہے یہ باوانا تک صاحب کا چولا تھا جو اُن کے مذہب کو ظاہر کرتا ہے اور چولا کی عزت جواب کی جاتی ہے در حقیقت یہ پرانی عزت ہے جو باوا صاحب سے ہی شروع ہوئی ۔ لے باوانا تک صاحب کا مسلمان ہونا آپ کی ایک جنم ساکھی سے بھی پایا جاتا ہے جس نے صاف لفظوں میں اس بات کی طرف ایما کی ہے کہ باوا صاحب نے آخری عمر میں حیات خاں نامی ایک مسلمان کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ منہ