مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 276
مجموعه اشتہارات ۲۷۶ جلد دوم وہ چھتے پھریں گے! اور وہ وقت آتا ہے بلکہ آگیا کہ اسلام کی سچائی کا نور منکروں کے منہ پر طمانچے مارے گا ! اور انہیں نہیں دکھائی دے گا کہ کہاں چھپیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ میں نے دو مرتبہ باوانا تک صاحب کو کشفی حالت میں دیکھا ہے اور ان کو اس بات کا اقراری پایا ہے کہ انہوں نے اُسی نور سے روشنی حاصل کی ہے ۔ فضولیاں اور جھوٹ بولنا مردار خوروں کا کام ہے۔ میں وہی کہتا ہوں کہ جو میں نے دیکھا ہے۔ اسی وجہ سے میں باوانا تک صاحب کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اس چشمہ سے پانی پیتے تھے جس سے ہم پیتے ہیں ۔ اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس معرفت سے بات کر رہا ہوں کہ جو مجھے عطا کی گئی ہے۔ اب اگر آپ کو اس بات سے انکار ہے کہ باوانا تک صاحب مسلمان تھے اور نیز آپ کو اس بات پر اصرار ہے کہ بقول آپ کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ بااللہ بدکار آدمی تھے تو میں آپ پر صرف منقولی استدلال سے اتمام حجت کرنا نہیں چاہتا بلکہ ایک اور طریق سے آپ پر خدا کی حجت پوری کرنا چاہتا ہوں جو آگے چل کر بیان کروں گا اور منقولی استدلال پر اس لئے حضر رکھنا پسند نہیں کرتا که بوجه قلت استعداد یہ راہ آپ کے لئے نہایت مشکل ہے۔ آپ لوگ صرف نادان پادریوں اور ایسا ہی اور بیہودہ اور نا سمجھ آدمیوں کے اعتراضات سن کر بوجہ دلی بخل کے اُن کو سچ سمجھ بیٹھے ہیں ۔ اور پھر بغیر تحقیق اور تفتیش کے اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بد زبانی شروع کر دی ہے ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ اسی شتاب کاری نے جو نادانی اور تعصب کے ساتھ ملی ہوئی تھی دنیا کو تباہی میں ڈال دیا ہے اور جہالت اور مفتریا نہ روایات نے آفتاب پر تھوکنے کے لئے ان کو دلیر کر دیا ہے۔ اگر آنکھیں ہوں تو کس قدر ندامت ہو۔ اور اگر بصیرت ہو تو کس قدرا اپنی خطا پر روویں۔ اے غافلو! وہ عزت اور شوکت جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ۔ کیا جھوٹے کو مل سکتی ہے؟ یقیناً سمجھو کہ یہ بات خدا کی خدائی پر داغ لگاتی ہے کہ دنیا میں جھوٹے نبی کو وہ دائمی عزت اور قبولیت دی جائے جو سچوں کو ملتی ہے کیونکہ اس صورت میں حق مشتبہ ہو جاتا ہے اور امان اُٹھ جاتا ہے۔ کیا کسی نے دیکھا کہ مثلاً ایک جھوٹا تحصیلدار سے تحصیلدار کے مقابل پر دو چار برس تک مقدمات کرتا رہا۔