مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 12
مجموعه اشتہارات اله جلد دوم اس میں وہ نا مرد بھی داخل ہیں جو صحبت کرنے پر تو پورے طرح قادر ہیں مگر منی قابل اولاد نہیں مثلاً منی میں کیڑے نہیں یا پتلی ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ ایسا ہو کہ ہرگز صحبت نہ کر سکتا ہو بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر مرد قابل اولاد ہو مگر لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہوں تب بھی نیوگ ہوگا تو یہ جواب سن کر وہ لوگ خاموش ہو گئے اور ان میں سے ایک پنڈت جی بولے کہ بے شک ایسی حالتوں میں بھی نیوگ کرانا کچھ مضائقہ نہیں اور ہم ایسے نیوگ پر راضی ہیں۔ غرض اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ عام ہدایت وید کی یہی ہے کہ آریہ لوگ ضرورتوں کے وقت اپنی بیویوں اور بہو بیٹیوں سے نیوگ کرایا کریں مگر ظاہر ہے کہ انسانی کانشنس اس کو قبول نہیں کرتا اور انسان کی فطرتی حمیت اور غیرت ہزار بیزاری سے اس کام پر لعنت بھیجتی ہے اور انسان تو انسان ایک مرغ بھی اپنی مرغیوں کے لئے غیرت رکھتا ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ اگر اس بارہ میں کوئی اور آریہ صاحب بھی بحث کرنا چاہتے ہوں تو ہم اپنے خرچ سے ان کو ان کی درخواست پر قادیان میں بلا سکتے ہیں ۔ اور ۱۵ اگست ۱۸۹۵ء تک مہلت ہے۔ راق ۲۶۱۸ میرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۳۱ جولائی ۱۸۹۵ء یہ اشتہار کے دو صفحہ پر علیحدہ ہے اور آر یہ دھرم طبع اوّل کے حاشیہ صفحہ 4 لغایت ۱۲ پر بھی ہے ) (روحانی خزائن جلده اصفحہ ۷ تا ۱۳ حاشیه ) یہ اشتہار خلافت لائبریری ربوہ کے ریکارڈ میں موجود ہے ) نوٹ ۔ شاید آریہ کہیں گے کہ یہ زنا نہیں مگر جس حالت میں خاوند موجود ہے اور بیٹا بھی اسی کا بیٹا کہلائے گا اور عورت بھی اسی کی عورت رہے گی اور طلاق دی نہیں گئی تو پھر یہ زنا نہیں تو اور کیا ہے اور منو لکھتا ہے کہ نیوگ کے دنوں میں بھی خاوند کو صحبت کرنے کا اختیار ہے۔ (دیکھومنو )