مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 76

مجموعه اشتہارات ۷۶ جلد اول حقیقت اسلام ثابت کی گئی ہے اور ہر ایک مخالف کے عقائدِ باطلہ کا ایسا استیصال کیا گیا ہے کہ گویا اس مذہب کو ذبح کیا گیا کہ پھر زندہ نہیں ہوگا۔ اس کتاب کے بارے میں بجز چند عالی ہمت مسلمانوں کے جن کی توجہ سے دو حصے اور کچھ تیسرا حصہ چھپ گیا۔ جو کچھ اور لوگوں نے اعانت کی وہ ایسی ہے کہ اگر بجائے تصریح کے صرف اسی پر قناعت کریں کہ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تو مناسب ہے۔ أَيُّهَا الْأَخْوَانُ الْمُؤْمِنُونَ ۔ مَالَكُمْ لَا تَتَوَجَّهُونَ ۔ شَوَّقْنَاكُمْ فَلَمْ تَشْتَاقُوا ۔ وَنَبَّهُنَاكُمْ فَلَمُ تَتَنَبَّهُوا ۔ اِسْمَعُوا عِبَادَ اللَّهِ اِسْمَعُوا ۔ انْصُرُوا تُوجَرُوا۔ وَفِي الْأَنْصَارِ تُبْعَثُوا ۔ وَفِي الدَّارَيْنِ تُرْحَمُوا ۔ وَفِي مَقْعَدِ صِدْقٍ تَقْعُدُوا ۔ رَحِمَنَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ هُوَ مَوْلَانَا نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ۔ اور اگر کوئی اب بھی متوجہ نہ ہو تو خیر ہم بھی ارحم الراحمین سے کہتے ہیں اور اُس کے پاک وعدے ہم غریبوں کو تسلی بخش ہیں اور اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جز تک بڑھادی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر ہوئے مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے لئے تین سو جز تک پہنچ گئی ہے جس کے مصارف پر نظر کر کے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے مگر بباعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ کہ گویا کچھ بھی نہیں ایک دوامی قیمت قرار پاوے۔ اور لوگوں کو اُن کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان خاطر نہ کیا جاوے لیکن خریداروں کو یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قد را جزاء کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزاء کے قدر اجزاء زائد از حق واجب ان کو پہنچیں گی وہ محض للہ فی اللہ ہوں گی اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً للہ اس کام کے انجام کے لئے مدد کریں گے اور واضح رہے کہ اب یہ کام صرف ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہو سکتا کہ جو مجردخریدار ہونے کی وجہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں ۔ بلکہ اس وقت کئی ایک ایسے عالی ہمتوں کی تو جہات کی حاجت ہے کہ جن کے دلوں میں ایمانی غیوری کے باعث سے حقیقی اور واقعی جوش ہے اور جن کا بے بہا ایمان صرف خرید وفروخت کے تنگ ظرف میں