مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 600
مجموعه اشتہارات ۶۰۰ جلد اول کے ساتھ جہاد قطعاً حرام ہے اور ہزار ہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتا بیں مفت تقسیم کیں اور بعض شریف عربوں کو وہ کتا بیں دے کر بلاد شام اور روم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتا بیں بھیجیں۔ اور یہ ہزار ہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا۔ شاید اس جگہ ایک نادان سوال کرے گا کہ اس قدر خیر خواہی غیر ممکن ہے کہ ہزار ہا رو پید اپنی گرہ سے خرچ کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلایا جاوے، لیکن ایک عقلمند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایمان دار آدمی اس سے تمتع اُٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق اور محبت کے رنگ میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ تا اس احسان کا معاوضہ دے۔ ہاں ہوتا طرف التفات نہیں کرتا۔ پس مجھے طبعی جوش نے ان کا روائیوں کے لیے مجبور کیا۔ مجھے افسوس ہے کہ اگر سول ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر کو ان واقعات کی کچھ بھی اطلاع ہوتی تو وہ ایسی تحریر جو انصاف اور سچائی کے برخلاف ہے ہرگز شائع نہ کرتا۔ میرے اس دعوی پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیر خواہ ہوں دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری جیسا لاکھوں پر چہ بھی ان کے مقابلہ پر کھڑا ہو تب بھی وہ دروغگو ثابت ہوگا ۔ ( اول ) یہ کہ جیالا علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔ ۲۔ دوسری یہ کہ میں نے کئی کتابیں عربی فارسی تالیف کر کے غیر ملکوں میں بھیجی ہیں جن میں برابر یہی تاکید اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی نا اندیش یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کارروائی میری کسی نفاق پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتا بیں عربی و فارسی روم اور شام اور مصر اور مکہ اور مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئیں اور ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیان بیان کی گئی ہیں وہ کاروائی کیونکر نفاق پر محمول ہو سکتی ہے۔ کیا ان ملکوں کے