مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 504
مجموعه اشتہارات ۵۰۴ جلد اول موت کی تاخیر ہماری سنت ہے جس کو ہم نے ذکر کر دیا اب جو چاہے وہ راہ اختیار کرلے جو اس کے رب کی طرف جاتی ہے۔ اس میں بدظنی کرنے والوں پر زجر اور ملامت ہے اور نیز اس میں یہ بھی تفہیم ہوئی ہے کہ جو سعادت مند لوگ ہیں اور جو خدا ہی کو چاہتے ہیں اور کسی بخل اور تعصب یا جلد بازی یا سوء فہم کے اندھیرے میں مبتلا نہیں وہ اس بیان کو قبول کریں گے اور تعلیم الہی کے موافق اس کو پائیں گے لیکن جو اپنے نفس اور اپنی نفسانی ضد کے پیرو یا حقیقت شناس نہیں وہ بیبا کی اور نفسانی ظلمت کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کریں گے۔ الہام الہی کا ترجمہ معہ تفہیمات الہیہ کے کیا گیا جس کا ماحصل یہی ہے کہ قدیم سے الہی سنت اسی طرح پر ہے کہ جب تک کوئی کافر اور منکر نہایت درجہ کا بے باک اور شوخ ہو کر اپنے ہاتھ سے اپنے لئے اسباب ہلاکت پیدا نہ کرے تب تک خدا تعالیٰ تعذیب کے طور پر اس کو ہلاک نہیں کرتا اور جب کسی منکر پر عذاب نازل ہونے کا وقت آتا ہے تو اس میں وہ اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے اس پر حکم ہلاکت لکھا جاتا ہے عذاب الہی کے لئے یہی قانون قدیم ہے اور یہی سنت مستمرہ اور یہی غیر متبدل قاعدہ کتاب الہی نے بیان کیا ہے اور غور کرنے سے ظاہر ہوگا کہ جو مسٹر عبداللہ آتھم کے بارہ میں یعنی سزائے ہاویہ کے بارہ میں الہامی شرط تھی وہ در حقیقت اسی سنت اللہ کے مطابق ہے۔ کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے لیکن مسٹر عبداللہ آتھم نے اپنی مضطر با نہ حرکات سے ثابت کر دیا کہ اس نے اس پیشگوئی کو تعظیم کی نظر سے دیکھا جو الہامی طور پر اسلامی صداقت کی بنیاد پر کی گئی تھی اور خدا تعالیٰ کے الہام نے بھی مجھ کو یہی خبر دی کہ ہم نے اس کے ہم اور غم پر اطلاع پائی ۔ یعنی وہ اسلامی پیشگوئی سے خوفناک حالت میں پڑا اور اس پر رُعب غالب ہوا۔ اس نے اپنے افعال سے دکھا دیا کہ اسلامی پیشگوئی کا کیسا ہولناک اثر اس کے دل پر ہوا اور کیسی اس پر گھبراہٹ اور دیوانہ پن اور دل کی حیرت غالب آگئی اور کیسے الہامی پیشگوئی کے رُعب نے اس کے دل کو ایک کچلا ہوا دل بنا دیا یہاں تک کہ وہ سخت بے تاب ہوا اور شہر بشہر اور ہر ایک جگہ ہراساں اور ترساں پھرتا رہا اور اس مصنوعی خدا پر اس کا تو کل نہ رہا جس کو خیالات کی کبھی اور ضلالت