مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 503
مجموعه اشتہارات ۵۰۳ جلد اول - جس قدر مسٹر عبد اللہ آتھم کے دل نے حق کی عظمت کو قبول کیا اس کا فائدہ اس کو پہنچ جائے سو خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور مجھے فرمایا اِطَّلَعَ اللهُ عَلَى هَمِّهِ وَغَمِّهِ۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا - وَلَا تَعْجَبُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ وَ بِعِزَّتِي وَ جَلَالِي إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى - وَ نُمَزِّقُ الْاَعْدَاءَ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۔ وَ مَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُورُ - إِنَّا نَكْشِفُ السِرَّ عَنْ سَاقِهِ - يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمَؤْمِنُونَ ۔ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ - وَ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا - ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ہم وغم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی جب تک کہ وہ بیبا کی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف میل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھلا دے ( یہ معنے فقرہ مذکورہ کے تفہیم الہی سے ہیں ) اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی یہی سنت ہے اور تو ربانی سنتوں میں تغیر اور تبدل نہیں پائے گا۔ اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ایسے کامل اسباب پیدا نہ ہو جائیں جو غضب الہی کو مشتعل کریں اور اگر دل کے کسی گوشہ میں بھی کچھ خوف الہی مخفی ہو اور کچھ دھڑ کہ شروع ہو جائے تو عذاب نازل نہیں ہوتا اور دوسرے وقت پر جا پڑتا ہے اور پھر فرمایا کہ کچھ تعجب مت کرو اور غمناک مت ہو اور غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر قائم رہو۔ یہ اس عاجز کی جماعت کو خطاب ہے اور پھر فرمایا کہ مجھے میری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ تو ہی غالب ہے ( یہ اس عاجز کو خطاب ہے ) اور پھر فرمایا کہ ہم دشمنوں کو پارہ پارہ کر دیں گے یعنی ان کو ذلت پہنچے گی اور اور ان کا کا مکر ہلاک ہو جائے گا۔ گا۔ اس اس میں میں یتیم یہ تفہیم ہوئی کہ کہ تم تم ہی ہی فتحیاب فتح یاب ہو ہو نہ دشمن او اور خدا تعالی بس نہیں کرے گا اور نہ باز آئے گا جب تک دشمنوں کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے اور ان کے مکر کو ہلاک نہ کر دے یعنی جو مکر بنایا گیا اور مجسم کیا گیا اس کو توڑ ڈالے گا اور اس کو مردہ کر کے پھینک دے گا اور اس کی لاش لوگوں کو دکھا دے گا اور پھر فرمایا کہ ہم اصل بھید کو اس کی پنڈلیوں ا میں سے ننگا کر کے دکھا دیں گے یعنی حقیقت کو کھول دیں گے اور فتح کے دلائل بینہ ظاہر کریں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے پہلے مومن بھی اور پچھلے مومن بھی اور پھر فرمایا کہ وجہ مذکورہ سے عذاب