مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 489
مجموعه اشتہارات ۴۸۹ جلد اول دیں بلکہ اس میں نا اہلی کی بُو پا کر اس کی طرف توجہ کرنا چھوڑ دیا۔ اس بات کا گواہ اس کا دل ہو گا گو زبان نہ ہو۔ غرض کسی کا مرتد ہونا کوئی اعجوبہ بات نہیں جس کو سعادت از لی سے حصہ نہیں وہ شقاوت کی طرف جائے گا۔ ضرور جائے گا ۔ ہماری طرف ایسے عوام الناس ہر روز آتے ہیں۔ پس کیا حرج ہے ہم کسی ایک کو اس کی جگہ سمجھ لیں گے۔ ایسے آدمیوں کے مرتد ہونے سے کوئی بد نتیجہ نکالنا بقیہ حاشیہ۔ دیدیں لیکن اگر تو چاہے تو تجھ کو بچالیں لیکن یہ واقعہ تو ایسا نہیں ہے بلکہ مسیح نے اپنے افعال سے ظاہر کر دیا کہ وہ بدل و جان یہی چاہتا تھا کہ وہ سولی سے بچ جائے ۔ اس نے دعا کرنے میں کوئی کسر نہ کی اور کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا اور سولی کے خوف سے اس کا دل نہایت غمگین ہوا۔ یہاں تک کہ اس کی موت کی سی حالت ہوگئی ۔ تمام رات جاگتا رہا۔ دُعا کرتا رہا۔ سجدے کرتا رہا۔ روتا رہا بلکہ دوسروں سے بھی دعا کراتا رہا کہ شاید میری نہیں تو انہیں کی دعا منظور ہو جائے۔ اپنی عزیز جان بچانے کے لیے کیا کچھ بے قراریاں کیں اور اس چند روزہ زندگی کے لیے کس قدر بے تابی ظاہر کی۔ آخر جب دیکھا کہ بات بنتی نظر نہیں آتی تو کہہ دیا کہ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے گزر جائے ، تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ تیری خواہش کے مطابق مگر مارے سخت بے قراری کے اس رضا جوئی کے فقرہ پر بھی قائم نہ رہ سکا۔ آخر موت کے وقت رب جلیل کی شکایت شروع کر دی اور کہا کہ اے میرے خدا، اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ اب دیکھو کہاں گئی وہ رضا جوئی۔ اگر مسیح با وجود ایسی دعا کے جو جان کی گدازش سے کی گئی تھی پھر بھی در حقیقت سولی مل گیا ہے تو ایسا شخص کسی طور سے نبی نہیں ہو سکتا۔ حَاشَاوَ كَلَّا کیونکہ تمام نبی اضطرار کے وقت میں مستجاب الدعوات ہوتے ہیں۔ یہ کیسا نبی تھا کہ اضطرار کے وقت اس کی دعائنی نہ گئی۔ اور اگر وہ سُولی نہیں ملا تو سچا نبی ہے اور ایسے ہی کی قرآن کریم نے تصدیق کی ہے اور توریت بھی یہی ظاہر کرتی ہے۔ بہر حال اگر مسیح کی وہ دعا منظور ہوگئی ہے اور وہ صلیب سے بچ گیا ہے تو اعتقاد صلیب اور کفارہ باطل اور اگر ایسے اضطرار کے وقت کی دعا بھی منظور نہیں ہوئی اور صلیب نصیب ہوگئی تو نبوت باطل ۔ تعجب کہ بائیبل میں یہ قصہ موجود ہے کہ ایک بادشاہ کی پندرہ دن عمر رہ گئی تھی اور جب نبی کی معرفت اس کو خبر دی گئی تو وہ تمام رات دعا کرتا رہا۔ تو خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر کو اس کے لیے بدل دیا اور دعا کو منظور کر لیا اور پندرہ دن کو پندرہ سال کے ساتھ بدل دیا۔ مگر مسیح کی تمام رات کی دعا با وجود اس قدر دعووں کے منظور نہ ہوئی ۔ تعجب کہ کسی پادری صاحب کو اس سچی حقیقت کی طرف توجہ نہیں اور ان کا کانشنس ایک دم کے لیے بھی ان کو ملزم نہیں کرتا کہ وہ تو کرتا کہ وہ شخص جس کی دُعا کی حالت ایک بادشاہ کی دعا کی حالت سے بھی گری ہوئی ہے وہ کیونکر سچا نبی ٹھہر سکتا ہے اور اس کی حقیقت تو اس قصہ سے بدیہی طور پر معلوم ہو چکی ۔