مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 462
مجموعه اشتہارات ۴۶۲ ١١٦ جلد اول اشتهار بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ (1) بهر دم از دل و جان وصف یار خود بکنم من آن نیم که تغافل از کار خود بکنم خود بکنم شار نگار خود (۲) بہر زماں بدلم ایں ہوس ہے جو شد که هرچه هست (۳) اگر چه در رو جاناں چو خاک گردیدم دلم تپد که فدایش غبار خود بکنم (۴) روم بگلشن دلدادگاں کہاں باغم (۵) رسید مژده که ایام نو بہار آید چرا بکوچه غیرے قرار خود بکنم زمانه را خبر از برگ و بار خود بکنم (۶) تعلقات دل آرام خویش بنمایم ہمائے اوج سعادت شکار خود بکنم (۷) بگوش ہوش شنو از من اے مکفر من کہ من گواہ بدیں کردگار خود بکنم ا ترجمہ اشعار ۔ (۱) میں ہر دم دل و جان سے اپنے خدا کی تعریف کرتا ہوں میں وہ نہیں ہوں کہ اپنے کام سے غفلت کروں ۔ (۲) ہر وقت میرے دل میں یہ شوق جوش مارتا ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ اپنے محبوب پر قربان کردوں ۔ (۳) اگرچہ میں محبوب کی راہ میں خاک کی طرح ہو گیا ہوں مگر میرا دل تڑپتا ہے کہ اپنا غبار بھی اُس پر فدا کر دوں۔ (۴) میں عاشقوں کے گلشن میں جاتا ہوں اس باغ کو چھوڑ کر میں کسی غیر کے کوچہ میں کیوں اپنا مسکن بناؤں ۔ (۵) مجھے خوشخبری ملی ہے کہ پھر موسم بہار آ گیا تا کہ زمانہ کو میں اپنے پھلوں اور پتوں کی خبر کر دوں ۔ (۶) اور اپنے محبوب کے تعلقات کا اظہار کروں اور ہمائے اوج سعادت کو اپنا شکار بناؤں۔ (۷) اے میرے مکفر ہوش سے یہ میری بات سن کہ میں اس پر اپنے خدا کو گواہ کرتا ہوں ۔